اہم ترین

بھارت کا دورۂ بنگلا دیش پھر شیڈول پر آنے کا امکان

بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو امید ہے کہ بھارت 2026-27 کے سیزن میں چھ وائٹ بال میچز کھیلنے کے لیے بنگلا دیش کا دورہ کرے گا۔ دونوں بورڈز کے درمیان دورے کے انعقاد کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور بنگلا دیشی حکام کو مثبت پیش رفت کی توقع ہے۔

بھارت کے مجوزہ دورۂ بنگلا دیش میں تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز شامل ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں بی سی بی کے صدر تمیم اقبال نے عندیہ دیا تھا کہ یہ دورہ ایک مرتبہ پھر مؤخر ہوسکتا ہے، تاہم اب ان کے لہجے میں خاصی امید نظر آرہی ہے۔

تمیم اقبال نے پیر کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کرکٹ بورڈز اس معاملے پر رابطے میں ہیں اور مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اتنا بتا سکتے ہیں کہ دونوں بورڈز کے درمیان بات چیت جاری ہے، مذاکرات نتیجہ خیز ہیں اور انہیں امید ہے کہ یہ دورہ ضرور ہوگا۔

ذرائع کے مطابق بی سی بی کو بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے مثبت جواب موصول ہوا ہے اور امکان ہے کہ بھارت کا دورۂ بنگلا دیش اگلے سال کے آغاز میں کرایا جائے گا۔

دورہ پہلے بھی دو مرتبہ مؤخر ہوچکا

بھارت کا یہ دورہ اصل میں اگست 2025 میں ہونا تھا، تاہم اسے مؤخر کرکے ستمبر 2026 میں منتقل کردیا گیا تھا۔ بی سی بی نے رواں سال بھی دورے کی تصدیق کی تھی، لیکن دونوں بورڈز کی جانب سے نہ تو حتمی شیڈول جاری کیا گیا اور نہ ہی اس کے مستقبل کے حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آیا۔

اس کے بعد ایک مرتبہ پھر خدشات پیدا ہوگئے تھے کہ چھ میچز پر مشتمل یہ سیریز مزید تاخیر کا شکار ہوسکتی ہے۔

مستفیض الرحمان کے معاملے پر تعلقات میں کشیدگی

دونوں بورڈز کے درمیان تعلقات میں اس وقت نمایاں تناؤ پیدا ہوا جب بی سی بی نے 2 جنوری کو بھارت کے دورے کا اعلان کیا، لیکن چند ہی روز بعد بنگلا دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے اخراج کے معاملے پر دونوں بورڈز کے درمیان اختلافات سامنے آگئے۔

اس تنازع کے نتیجے میں اُس وقت کی بنگلا دیشی عبوری حکومت نے بی سی بی کو فروری میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے دستبردار ہونے کی ہدایت بھی کی تھی۔

یوں بھارت اور بنگلا دیش کے کرکٹ تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی سیریز کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔

نئی حکومت کے بعد برف پگھلنے لگی

بنگلا دیش میں جمہوری قیادت کی بحالی کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے اور نئی حکومت بھارت کے بنگلا دیش کے دورے کے حوالے سے مثبت رویہ رکھتی ہے۔

دونوں بورڈز کے تعلقات میں بہتری اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب بی سی بی کے نئے صدر تمیم اقبال نے رواں ماہ بھارت کا دورہ کیا۔ تمیم کے دورۂ بھارت کے دوران ان کی بنگلورو میں بی سی سی آئی کے سینٹر آف ایکسی لینس کے دورے کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

اس ملاقات اور رابطوں کے بعد دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان دورۂ بنگلا دیش کو دوبارہ عملی شکل دینے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

اب گیند دونوں بورڈز کے کورٹ میں

بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان چھ میچز کی سیریز اب ایک مرتبہ پھر ممکن دکھائی دے رہی ہے، تاہم تاحال کسی بھی بورڈ نے حتمی شیڈول جاری نہیں کیا۔

بی سی بی کی جانب سے ملنے والے مثبت اشاروں کے بعد توقع ہے کہ اگر دونوں بورڈز معاملات کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہوگئے تو بھارتی ٹیم 2027 کے آغاز میں بنگلا دیش کا دورہ کرسکتی ہے۔

یعنی کئی ماہ کی غیر یقینی، سیاسی کشیدگی اور دو مرتبہ التوا کے بعد اب بھارت کے دورۂ بنگلا دیش کے راستے ایک بار پھر کھلتے دکھائی دے رہے ہیں۔

پاکستان