اہم ترین

دیامر بھاشا ڈیم کا 4500 میگاواٹ پاور منصوبہ منسوخ نہیں ہوا، وزارت اقتصادی امور

وزارت اقتصادی امور نے دیامر بھاشا ڈیم کے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کی منسوخی سے متعلق خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت نے ڈیم کی پن بجلی پیدا کرنے کی سہولیات منسوخ نہیں کیں۔

وزارت اقتصادی امور کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم بدستور قومی ترجیحی منصوبہ ہے اور اسے پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ پن بجلی پیداوار کے ایک اہم منصوبے کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

وزارت نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے پن بجلی منصوبے کے حوالے سے واپڈا اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ منصوبہ بندی جاری ہے۔ حکومت ڈیم اور اس سے منسلک بجلی پیدا کرنے کی سہولیات کو مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

وزارت اقتصادی امور نے عوام سے اپیل کی ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم سے متعلق قیاس آرائیوں یا غیر مصدقہ اطلاعات پر اعتماد کرنے کے بجائے صرف سرکاری اور مستند معلومات کو معتبر سمجھا جائے۔

وزارت کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل پاکستان کی آبی اور توانائی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ منصوبے سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہونے کے ساتھ پن بجلی پیداوار کے ذریعے توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

دریائے سندھ پر تعمیر ہونے والا دیامر بھاشا ڈیم پہلے ہی طویل عرصے سے پاکستان کے بڑے آبی و توانائی منصوبوں میں شامل ہے۔ منصوبے کے لیے 2020 میں تعمیراتی معاہدہ بھی کیا گیا تھا جبکہ اس کی مجوزہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4500 میگاواٹ بتائی جاتی رہی ہے.

ڈیم مجموعی طور پر 4500 میگا واٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کا حامل ہے ، ڈیم سے بجلی پیدا کر کے تیل کی مد میں سالانہ 2.48 ارب ڈالرز کی بچت ہوگی۔ دیامیر بھاشا ڈیم لاکھوں ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لیے پانی فراہم کرے گا، ڈیم سے بجلی پیدا کر کے تیل کی مد میں سالانہ 2.48ارب ڈالرز کی بچت ہوگی۔

وزارت اقتصادی امور کی تازہ وضاحت کا مقصد ان اطلاعات کی تردید کرنا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈیم کے بجلی پیدا کرنے والے حصے کو منصوبے سے خارج یا منسوخ کردیا گیا ہے۔

پاکستان