آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی جانب سے بیرسٹر افتخار علی گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات سامنے آنے لگے ہیں۔ نامزدگی کے فیصلے پر سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق پارٹی قائد نواز شریف نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔ اس سے قبل آزاد کشمیر مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر کا نام بھی اس منصب کے لیے زیرِ غور تھا۔
گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دونوں رہنماؤں کے ناموں پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ حتمی امیدوار کے انتخاب کا اختیار مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کے پاس ہوگا، جنہوں نے بعد ازاں افتخار گیلانی کے نام کی منظوری دے دی۔
افتخار گیلانی کی نامزدگی پر سب سے زیادہ اعتراض ان کے حالیہ انتخابی پس منظر کو لے کر سامنے آیا ہے۔ وہ حالیہ عام انتخابات میں اپنی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے اور اس سے قبل 2021 کے انتخابات میں بھی انہیں کامیابی نہیں ملی تھی۔ مسلم لیگ ن نے انہیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مخصوص نشست پر اسمبلی کا رکن منتخب کروایا۔ اسی مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی میں پہنچنے کے بعد اب انہیں وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
افتخار گیلانی کو امیدوار بنانے کے فیصلے پر مسلم لیگ ن کے بعض رہنماؤں کی ناراضی کی اطلاعات ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب خطے میں سیاسی بے چینی اور عوامی احتجاج کا ماحول موجود ہے، عام انتخابات میں شکست کھانے والے رہنما کو مخصوص نشست کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ کے لیے آگے لانا سیاسی طور پر مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے پر بحث جاری ہے۔ صحافی محمد اسد چوہدری سمیت بعض صارفین نے تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں عوامی مینڈیٹ کے بجائے مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی میں آنے والے شخص کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار بنانا سیاسی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
سیاسی طور پر یہ صورتحال نئی نہیں، کیونکہ ماضی میں بھی آزاد کشمیر میں مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی میں آنے والے رہنما کو وزارتِ عظمیٰ مل چکی ہے۔ مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عبدالقیوم خان 1991 میں علما و مشائخ کے لیے مخصوص نشست پر کامیاب ہوئے اور 1996 تک آزاد کشمیر کے وزیراعظم رہے۔










