اہم ترین

اسلام آباد کے پمز اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی، 15نومولود جاں بحق

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران سکندر نے بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ پمز کی مادر اینڈ چائلڈ اسپتال (ایم سی ایچ) وارڈ کی تیسری منزل پر لگی، جہاں موجود 14 بچے شدید جھلس گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔

انتظامیہ کے مطابق امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسوں نے حصہ لیا۔ آگ پر فوری قابو پانے کے بعد بچوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) منتقل کیا گیا۔

واقعے سے قبل پمز کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس مرحلے پر کسی بچے کی موت کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق آگ ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں لگی اور آکسیجن کے کنکشنز کے باعث شعلوں نے انتہائی تیزی سے شدت اختیار کی۔

ترجمان کے مطابق حادثے کے وقت وارڈ میں 15 بچے زیر علاج تھے۔ اسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ آگ تقریباً شام 6 بج کر 45 منٹ پر چلڈرن وارڈ میں لگی۔

ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی وجوہات جاننے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی آگ لگنے کے محرکات اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے المناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کی ہدایت کردی ہے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ بچوں کے ساتھ پیش آنے والی ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے۔ انہوں نے واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لینے، ذمہ داروں کا تعین کرنے اور قصوروار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

واقعے کے بعد چیف کمشنر اسلام آباد اور پولیس کے سربراہ سمیت اعلیٰ حکام موقع پر موجود رہے۔ انتظامیہ نے جائے حادثہ پر میڈیا کے داخلے کی اجازت نہیں دی۔

واقعے نے اسپتالوں میں نومولود بچوں کے وارڈز کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی اور آکسیجن نظام کی نگرانی سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سے آگ لگنے کی حتمی وجہ اور غفلت کے ذمہ داروں کا تعین ہوسکے گا۔

پاکستان