فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کی ہے، جس میں علاقائی امن و استحکام اور خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے پرامن، پائیدار اور جامع حل کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ ایران نے بھی دورے کو خطے میں امن و سلامتی کے فروغ اور پاکستان کی جاری خیرسگالی و ثالثی کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا ایران کے خلاف نئی اور سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ واشنگٹن نے خاص طور پر ان ممالک اور تجارتی شراکت داروں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا ہے جو ایران کو معاشی سہارا فراہم کرتے ہیں، جبکہ تہران نے امریکی معاشی دباؤ کے جواب میں سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔
رائٹرز کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران روانگی سے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی تھی۔ یہ رابطہ اس وقت ہوا جب واشنگٹن ایران پر مزید سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو کے موضوعات کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں اور وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔
پاکستان رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد کی سابقہ کوششوں کے نتیجے میں جون میں ایک عبوری امن معاہدہ بھی طے پایا تھا، تاہم بعد میں دوبارہ کشیدگی بڑھ گئی۔
ذرائع کے مطابق تہران میں ہونے والی بات چیت میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے علاوہ خطے میں دیگر سیکیورٹی معاملات بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے، جن میں ایران سے منسلک حوثی گروپ کے سعودی عرب پر حملے اور پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے حالیہ دفاعی معاہدے کے اثرات شامل ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان موجود ہے، اور اسلام آباد کی کوشش ہے کہ باہمی بداعتمادی کم کرکے مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے راستہ ہموار کیا جائے۔










