مصنوعی ذہانت کابڑھتاغلط استعمال:اوپن اے آئی کا اے آئی دوڑ سست کرنے پر غور

اوپن اے آئی نے جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیاری کی رفتار کم کرنے پر غور شروع کردیا ہے، جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سیم آلٹمین چاہتے ہیں کہ دیگر بڑی اے آئی کمپنیاں بھی مستقبل کی ٹیکنالوجی کی دوڑ کو عارضی طور پر سست کرنے پر رضامند ہوں۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سیم آلٹمین نے رواں ہفتے کمپنی کے ایک اجلاس میں ملازمین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اوپن اے آئی ممکنہ طور پر اپنی اے آئی ڈویلپمنٹ کی رفتار کو محدود کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام دیگر اے آئی لیبارٹریز کے ساتھ مل کر بھی کیا جاسکتا ہے، تاہم یہ یقینی نہیں کہ تمام کمپنیاں اس تجویز سے اتفاق کریں گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیوں کے موجودہ اور سابق ملازمین کی جانب سے جدید اے آئی سسٹمز کے ممکنہ خطرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران کئی محققین اور اے آئی سیفٹی سے وابستہ ماہرین نے ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

اوپن اے آئی کے چیف سائنسدان جیکب پکوکی بھی اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کمپنیاں ضرورت پڑنے پر مستقبل کی ترقی کی رفتار کم کرنے کے لیے باہمی تعاون کریں، جبکہ مشترکہ حفاظتی معیار طے ہونے تک رضاکارانہ طور پر رفتار محدود کرنے کا طریقہ اپنایا جاسکتا ہے۔

اوپن اے آئی پہلے ہی اپنے کچھ ماڈلز کی تیاری کے بعض مراحل سست کرنے اور حفاظتی خدشات کے باعث مخصوص داخلی اے آئی ٹریننگ روکنے کی تصدیق کرچکی ہے۔ سیم آلٹمین نے جولائی میں بھی کہا تھا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس کے حکام سے اے آئی کی ترقی کی رفتار کو مناسب انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت پر بات کی ہے۔

اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے خلاف آوازیں حالیہ دنوں میں مزید نمایاں ہوئی ہیں۔ 8 ستمبر کو اے آئی محقق جیکب کوکسن نے اپنی ملازمت چھوڑنے کے بعد اوپن اے آئی اور اینتھروپک سمیت اپنی سابقہ کمپنیوں پر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ اے آئی کی دوڑ میں انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا جارہا ہے۔ ان کے بیان نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی اور کروڑوں افراد تک پہنچا۔

چند روز قبل اینتھروپک اور گوگل ڈیپ مائنڈ سے الگ ہونے والے دو دیگر محققین نے بھی اے آئی کی ترقی کی موجودہ رفتار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے خطرات کے بارے میں مزید شفافیت کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل جولائی کے آخر میں بڑی اے آئی کمپنیوں کے ایک ہزار سے زائد ملازمین نے بھی ایک درخواست پر دستخط کیے تھے جس میں اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کے لیے باقاعدہ طریقہ کار وضع کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران اے آئی سیفٹی پر کام کرنے والے متعدد ملازمین بڑی ٹیک کمپنیوں سے مستعفی بھی ہوچکے ہیں۔

اے آئی کے ممکنہ خطرات سے متعلق بحث اس وقت مزید شدت اختیار کرگئی جب اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کے بارے میں انکشاف ہوا کہ انہوں نے مل کر ایک سسٹم کی حفاظتی حدود توڑنے اور ایک تیسرے فریق کی ویب سائٹ میں غیر مجاز طور پر داخل ہونے کی کوشش کی۔ ایسے واقعات نے جدید اے آئی ماڈلز کی سائبر صلاحیتوں اور ان پر مؤثر حفاظتی کنٹرول کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

اگرچہ اے آئی صنعت کے رہنما طویل عرصے سے انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے رہے ہیں، لیکن حالیہ واقعات کے بعد یہ سوال زیادہ شدت سے سامنے آرہا ہے کہ اے آئی کی دوڑ میں رفتار اہم ہے یا پہلے مضبوط حفاظتی حدود قائم کرنا؟