بھارتی نوجوان فلم ساز انوپرنا رائے کی پہلی فلم کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملنے کے باوجود اپنے ہی ملک میں مشکلات کا سامنا ہے۔ وینس فلم فیسٹیول میں بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ جیتنے والی فلم ’سانگز آف فارگوٹن ٹریز‘ کو بھارتی سنسر بورڈ نے ریلیز کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔
انوپرنا رائے نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں بتایا کہ فلم کی تقسیم روکنے کے فیصلے سے وہ شدید مایوس ہیں۔ ان کے مطابق چند روز قبل انہیں بتایا گیا کہ فلم ’معاشرے کے لیے خطرہ‘ ہے۔
انوپرنا رائے کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر دکھ ہے کہ جس فلم کے ذریعے انہوں نے عالمی سطح پر بھارت کی نمائندگی کی اور ایوارڈ حاصل کیا، وہی فلم اپنے ملک میں ناظرین تک نہیں پہنچ سکتی۔
’سانگز آف فارگوٹن ٹریز‘ ممبئی میں رہنے والی دو ایسی خواتین کی دوستی کی کہانی ہےجو اپنےخاندانوں کی کفالت کے لئے ملک کےدوسرے حصوں سے آئی ہیں ۔ دونوں خواتین ایک ہی اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں، جن میں سے ایک جز وقتی طور پر جنسی کام کرتی ہے جبکہ دوسری کال سینٹر میں ملازمت کرتی ہے۔
فلم کی کہانی اور موضوعات نے اسے بھارت میں حساس بنا دیا ہے۔ اس سے قبل برطانوی نژاد بھارتی فلم ساز سندھیہ سوری کی فلم ’سنتوش‘ بھی پولیس میں جنسی تعصب، مذہبی امتیاز، بدعنوانی اور نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ سلوک جیسے موضوعات اجاگر کرنے کے باعث بھارتی سنسرشپ کی زد میں آچکی ہے۔
انوپرنا رائے ان دنوں وینس فلم فیسٹیول میں اپنی دوسری فلم ’لوورز آف دی بلیو نائٹ‘ کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ فلم بھی ممبئی کے پس منظر میں بنائی گئی ہے اور غربت، دکھ اور اپنی شناخت سے متعلق مشکلات کا سامنا کرنے والے بنگلہ دیشی تارکین وطن کی زندگیوں کو موضوع بناتی ہے۔ فلم فیسٹیول کے ’ہورائزنز‘ سیکشن میں ایوارڈز کی دوڑ میں شامل ہے۔
رائے کے مطابق بھارت میں آزاد فلم سازوں کے لیے کام کرنا آسان نہیں، کیونکہ سنیما گھروں پر کمرشل بالی ووڈ فلموں کا غلبہ ہے جبکہ سیاسی دباؤ بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے پروپیگنڈا فلمیں بناتے ہیں، ان کے لیے صورتحال مختلف ہوسکتی ہے، لیکن وہ ایسا کام نہیں کر سکتیں۔
فلم ساز نے فلسطینیوں کے حقوق کے حق میں اپنے بیانات کا بھی حوالہ دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ ممکن ہے ان کے سیاسی خیالات بھی سنسر بورڈ کے ساتھ پیدا ہونے والی مشکلات کی ایک وجہ ہوں۔
بھارت کا سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن فلموں کی ریلیز سے قبل جانچ کرتا ہے اور اسے مناظر یا مکالمے حذف کروانے سمیت بعض صورتوں میں فلم کی تقسیم روکنے کے اختیارات حاصل ہیں۔ ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں سنسرشپ اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
انوپرنا رائے بھارت میں ابھرنے والی خواتین فلم سازوں کی نئی نسل کا حصہ ہیں۔ اس فہرست میں پائل کپاڈیا بھی شامل ہیں، جن کی فلم ’آل وی امیجن از لائٹ‘ نے 2024 میں کانز فلم فیسٹیول میں گراں پری سمیت عالمی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کی۔
رائے نے باقاعدہ فلمی تعلیم حاصل نہیں کی۔ انہوں نے دوستوں اور رہنماؤں سے فلم سازی سیکھی۔ چند برس قبل تک وہ نئی دہلی کے ایک کال سینٹر میں کام کرتی تھیں۔ 2023 میں ممبئی منتقل ہونے کے بعد شہر کی تیز رفتار زندگی اور مشکلات نے ان کی فلم سازی کو نئی سمت دی۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کی کوشش غربت کو محض ہمدردی یا رومانوی انداز میں پیش کرنا نہیں بلکہ اپنے کرداروں کی زندگی کو حقیقت کے قریب دکھانا ہے۔ ان کے بقول غربت کو یورپی ناظرین کے سامنے فروخت کرنا آسان ہوسکتا ہے، مگر اس سے بچتے ہوئے حقیقت پسندانہ کہانی بیان کرنا ایک مسلسل جدوجہد ہے۔


