موٹاپے کے علاج میں کامیابی کا معیار صرف ترازو پر نظر آنے والا وزن نہیں بلکہ مجموعی صحت میں بہتری ہونا چاہیے، اینڈوکرائن سوس موٹاپا ایک طویل مدتی طبی مسئلہ ہے جو ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری، فالج اور بعض اقائٹی نے نئی سائنسی رپورٹ میں زور دیا ہے۔
اینڈو کرائن سوسائٹی کے جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق موٹاپا ایک طویل مدتی طبی مسئلہ ہے جو ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری، فالج اور بعض اقسام کے کینسر سمیت متعدد بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج کے دوران وزن میں کمی اہم ضرور ہے، تاہم اس کے ساتھ دل، میٹابولک موٹاپے کے علاج کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ یہ ادویات وزن کم کرنے کے ساتھ موٹاپے سے جڑے بعض طبی مسائل میں بھی بہتری لاس نظام، جگر، نیند، ذہنی صحت اور جسمانی کارکردگی میں بہتری کو بھی کامیابی کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
رپورٹ میں خاص طور پر سیمی گلوٹائیڈ اور ٹرائزیپٹائیڈ جیسی نئی ادویات کا ذکر کیا گیا ہے، جنہوں نے موٹاپے کے علاج کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ یہ ادویات وزن کم کرنے کے ساتھ موٹاپے سے جڑے بعض طبی مسائل میں بھی بہتری لاسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بعض مریضوں میں وزن کم ہونے کا براہ راست تعلق نیند کی کمی اور جوڑوں کے مسائل میں بہتری سے ہوسکتا ہے، جبکہ دل کے دورے، فالج، جگر اور گردوں سے متعلق بیماریوں کے خطرات میں کمی صرف وزن گھٹنے کی وجہ سے نہیں بلکہ دیگر طبی اثرات کے باعث بھی ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر مریض کے لیے علاج کا مقصد یکساں نہیں ہوسکتا۔ کسی شخص کے لیے وزن میں معمولی کمی کے ساتھ بلڈ پریشر یا شوگر میں بہتری زیادہ اہم ہوسکتی ہے، جبکہ کسی دوسرے مریض کو نیند کی خرابی یا بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ نئی ادویات کے طویل مدتی اثرات اور انہیںیزی سے وزن بڑھا سکتے ہیں اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر جیسے صحت کے اشاریے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین کم خوراک یا متبادل ادویات کے ذریعے علاج کے فوائد برقرار رکھنے کے امکانات کا جسمانی نقل و حرکت بہتر بنانے کے لیے زیادہ وزن کم کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ نئی ادویات کے طویل مدتی اثرات اور انہیں کتنے عرصے تک استعمال کرنا چاہیے، اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
تحقیق کے مطابق بعض افراد ادویات بند کرنے کے بعد دوبارہ تیزی سے وزن بڑھا سکتے ہیں اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر جیسے صحت کے اشاریے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین کم خوراک یا متبادل ادویات کے ذریعے علاج کے فوائد برقرار رکھنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اینڈوکرائن سوسائٹی نے مستقبل کی تحقیق کے لیے چھ اہم شعبوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں موٹاپا پیدا ہونے کی وجوہات، مختلف افراد میں علاج کے مختلف اثرات، وزن کے علاوہ نئے علاجی اہداف، ادویات کے طویل مدتی اثرات، صحت پر پڑنے والے فوائد اور نئی ادویات کی طویل مدتی حفاظت شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں موٹاپے کا علاج صرف ترازو کے ہندسے کو کم کرنے کے بجائے ہر مریض کی صحت، ضروریات اور طویل مدتی اہداف کے مطابق انفرادی بنیادوں پر کرنے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔


