پیٹرولیم ڈیلرز کا تحفظات دور ہونے تک فیول ریلیف اسکیم پر عمل نہ کرنے کا اعلان

وزیراعظم کی جانب سے عوام کو پیٹرول پر ریلیف دینے کے لیے اعلان کردہ خصوصی اسکیم پر پیٹرولیم ڈیلرز نے تحفظات کا اظہار کردیا۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں، لیکن موجودہ طریقہ کار قابلِ عمل نہیں۔

کراچی میں پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اسکیم کی تیاری اور اعلان سے پہلے ڈیلرز کی نمائندہ تنظیم سے مشاورت نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے ہزاروں پیٹرولیم ڈیلرز پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتے کاروباری اخراجات کے باعث مالی دباؤ میں ہیں۔

پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق اگر ریلیف اسکیم کے تحت اربوں روپے ان کے سرمائے میں پھنس گئے تو کاروبار چلانا مشکل ہوجائے گا۔

پی پی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ عوام کو ریلیف حکومت براہِ راست اور آسان طریقے سے دے، اس کا مالی بوجھ ڈیلرز پر منتقل نہ کیا جائے۔

ایسوسی ایشن کے رہنما امیر خان کے مطابق اسکیم کا آزمائشی اطلاق اسلام آباد میں ہوچکا ہے، جبکہ ملک بھر میں اس کا نفاذ رات بارہ بجے سے ہونا تھا۔ تاہم پی پی ڈی اے نے فیصلہ کیا ہے کہ تحفظات دور ہونے تک اسکیم پر عملدرآمد نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلرز نے حکومت سے فوری مذاکرات اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پی پی ڈی اے کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 14 ہزار پیٹرولیم ڈیلرز موجود ہیں، جنہیں موجودہ طریقہ کار کے باعث مالی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ایسوسی ایشن نے ڈیلرز مارجن بڑھا کر 8 فیصد کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔

پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ او ایم سیز کے اربوں روپے کے واجبات پہلے ہی زیرِ التوا ہیں، جبکہ مہنگائی نے کاروباری اخراجات مزید بڑھا دیے ہیں۔

پی پی ڈی اے نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے بجائے قیمتیں ہر 30 روز میں ایک مرتبہ مقرر کرنے کے طریقہ کار پر غور کیا جائے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریلیف اسکیم سے پہلے ڈیلرز کے مالی تحفظ اور سرمائے کی واپسی کی واضح ضمانت دی جائے۔