گٹکا اشتہار پر شاہ رخ، اجے اور ٹائیگر کو قانونی کارروائی کا سامنا

بھارتی ریاست مہاراشٹرا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے کمشنر توکارام منڈھے نے واضح کیا ہے کہ بالی ووڈ اسٹارز کی شہرت انہیں قانون کے تحت کارروائی سے استثنیٰ نہیں دے گی۔

شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو ومِل الائچی کے اشتہار کے معاملے پر مہاراشٹرا ایف ڈی اے نے شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔ محکمہ کا مؤقف ہے کہ یہ اشتہار ریاست میں ممنوع ومِل پان مسالا کی بالواسطہ یا متبادل تشہیر کے زمرے میں آتا ہے۔

این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے توکارام منڈھے نے کہا کہ اداکاروں کو اس معاملے میں ستاروں کے طور پر نہیں بلکہ قانون کے تحت اشتہار دینے والوں کے طور پر دیکھا جارہا ہے، اس لیے کارروائی قانون کے مطابق آگے بڑھے گی۔

ایک اداکار نے جواب جمع نہیں کرایا

مہاراشٹرا ایف ڈی اے نے تینوں اداکاروں کو 11 اگست کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب کے لیے 15 دن کی مہلت دی تھی۔

کمشنر کے مطابق تین میں سے دو اداکاروں نے نوٹس کا جواب دے دیا، جبکہ ایک نے مقررہ مدت میں جواب جمع نہیں کرایا۔ تاہم انہوں نے اس اداکار کا نام ظاہر نہیں کیا۔

توکارام منڈھے کے مطابق جس معاملے میں جواب موصول نہیں ہوا، وہاں ایڈجوڈیکیشن اور پراسیکیوشن کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

جب ان سے شاہ رخ خان کی جانب سے جواب جمع کرانے سے متعلق سوال کیا گیا تو کمشنر نے کہا کہ غالب امکان ہے کہ انہوں نے جواب نہیں دیا، تاہم وہ اس بارے میں مکمل یقین سے نہیں کہہ سکتے۔

اداکاروں کا مؤقف کیا ہے؟

کمشنر کے مطابق نوٹس کا جواب دینے والے دونوں اداکاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مصنوعات کی تیاری اور فروخت کی ذمہ داری کمپنی یا مینوفیکچرر کی ہے۔

ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ ان کے مؤقف کو سماعت کے دوران زیرِ غور لایا جائے گا اور متعلقہ افسر دونوں اداکاروں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دے گا۔

تاہم توکارام منڈھے نے کہا کہ اشتہار دینے والے کی بھی قانونی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق فوڈ سیفٹی قوانین اور اشتہاری ضوابط میں اشتہار دینے والے کی ذمہ داری واضح طور پر بیان کی گئی ہے، جس میں اس امر کی جانچ بھی شامل ہے کہ وہ کس چیز کی تشہیر کررہا ہے۔

ایف ڈی اے کی کارروائی کی بنیاد اس مؤقف پر ہے کہ ومِل الائچی کے اشتہار کے ذریعے دراصل گٹکے کی بالواسطہ تشہیر کی جارہی تھی۔

سروگیٹ ایڈورٹائزنگ سے مراد کسی ممنوع یا محدود مصنوعات کی براہِ راست تشہیر کے بجائے اسی برانڈ سے منسلک کسی دوسری مصنوعات کے ذریعے اس کی تشہیر کرنا ہے۔

اب معاملہ سماعت اور قانونی کارروائی کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں اداکاروں کے جوابات اور ایف ڈی اے کے مؤقف کا جائزہ لیا جائے گا۔