ٹی وی شو کے دوران اے آئی اداکارہ ہینگ: انگریزی بھول کر چینی بولنے لگی

انسانوں کی جگہ فلمی دنیا میں اے آئی کرداروں کے استعمال پر جاری بحث کے دوران ایک لائیو انٹرویو میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اداکارہ ٹلی نارووڈ اس وقت غیر متوقع طور پر رک گئی جب وہ اداکار ٹام کونٹی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اچانک انگریزی سے چینی زبان پر بولنے لگی۔

یہ دلچسپ واقعہ برطانوی چینل میں پیئرز مورگن ان سینسرڈ نامی پروگرام میں پیش آیا، جہاں ٹلی نارووڈ کے ساتھ معروف اداکار ٹام کونٹی بھی موجود تھے۔ پروگرام میں ٹلی سے اس کی آنے والی فلم مس الائنڈ اور اس میں کام کرنے والے دیگر اداکاروں کے بارے میں سوالات کیے جارہے تھے۔

ٹام کونٹی کے سوال پر اچانک گڑبڑ

ٹام کونٹی نے ٹلی نارووڈ سے پوچھا کہ فلم میں اس کے ساتھ کام کرنے والے دیگر اداکار حقیقی انسان ہیں یا وہ بھی مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے کردار ہیں۔

ٹلی نے ابتدا میں انگریزی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ فلم ایک ہائبرڈ پروڈکشن ہے اور اس میں ڈیجیٹل کردار شامل ہیں۔ بعد ازاں اس نے وضاحت کی کہ فلم میں موجود دیگر کردار بھی اس کی طرح ’’ڈیجیٹل ٹوئنز‘‘ ہیں۔

لیکن جواب کے دوران اچانک ٹلی خاموش ہوگئی اور پھر چینی زبان، بالخصوص کینٹونیز، میں بولنے لگی۔ اس غیر متوقع تبدیلی پر ٹام کونٹی اور پیئرز مورگن دونوں حیران رہ گئے۔

ٹام کونٹی نے پیئرز مورگن سے پوچھا کہ آیا انہیں بھی ٹلی کی بات سمجھ آئی ہے، جبکہ مورگن نے ٹلی سے براہ راست سوال کیا کہ وہ اچانک چینی زبان میں کیوں بولنے لگی۔

ٹلی نے کیا وضاحت دی؟

چینی زبان میں اچانک منتقل ہونے کے بعد ٹلی دوبارہ انگریزی میں آئی اور اس واقعے کو ایک چھوٹی سی ’’ہچکی‘‘ قرار دیا۔

اس نے وضاحت کی کہ کبھی کبھار اس کے ’’وائرز کراس‘‘ ہوجاتے ہیں اور یہ صورتحال اس کے لیے بھی ایک غیر متوقع لمحہ تھی۔

تاہم ٹلی کی تخلیق کار ایلائن وان ڈیر ویلڈن نے بعد میں اس واقعے کو محض خرابی قرار دینے کے بجائے کہا کہ ٹلی 30 سے زیادہ زبانوں میں بات کرسکتی ہے اور ممکن ہے کہ اس نے اپنی زبانوں کی صلاحیت دکھانے کی کوشش کی ہو۔

ٹلی نارووڈ اصل میں ہے کیا؟

ٹلی نارووڈ کوئی حقیقی اداکارہ نہیں بلکہ پارٹیکل 6 نامی برطانوی پروڈکشن کمپنی اور اس کے اے آئی ڈویژن ژیکوئیا کی تیار کردہ ایک فوٹو ریئلسٹک مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل شخصیت ہے۔ اسے روایتی انسانی اداکار کے بجائے ایک اے آئی پرفارمر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

ٹلی کی آنے والی فلم مس الائنڈ ایک ہائبرڈ پروڈکشن ہے، جس میں اے آئی سے تیار کردہ کرداروں کے ساتھ انسانی فلم ساز بھی شامل ہیں۔ فلم کے حوالے سے ٹلی کو مرکزی کردار کے طور پر تشہیر کیا جارہا ہے۔

اے آئی اداکاروں پر نئی بحث

لائیو انٹرویو کا یہ واقعہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کہ ٹلی نارووڈ کو ایسے وقت میں متعارف کرایا جارہا ہے جب ہالی ووڈ میں اے آئی کے ذریعے اداکاروں اور فلمی کرداروں کی تخلیق پر شدید بحث جاری ہے۔

انسانی اداکاروں اور اداکاروں کی تنظیموں کی جانب سے بھی ٹلی نارووڈ کے تصور پر اعتراضات سامنے آچکے ہیں۔ دوسری جانب اس کے تخلیق کار اسے اے آئی ٹیکنالوجی کی موجودہ صلاحیتوں کی نمائش قرار دیتے ہیں۔

پیئرز مورگن کے پروگرام میں اچانک زبان تبدیل ہوجانے کا واقعہ اس بحث میں ایک نیا پہلو لے آیا ہے: اے آئی کردار اسکرپٹ کے بغیر حقیقی وقت میں انسانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کس حد تک قابلِ اعتماد اور مستقل کارکردگی دکھا سکتے ہیں؟

فی الحال ٹلی کے تخلیق کاروں نے اس واقعے کو معمولی ’’ہچکی‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ لائیو پروگرام میں ہونے والی غیر متوقع زبان کی تبدیلی نے سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی و تفریح کے حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔