قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جاری انکوائری سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ سامنے آگیا۔
محمد رضوان نے این سی سی آئی اے کے نوٹسز اور انکوائری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے انہیں پہلے بھی ہدایت کی تھی کہ وہ این سی سی آئی اے کے نوٹس کا جواب دیں اور متعلقہ فورم پر اپنا مؤقف پیش کریں۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے محمد رضوان کی درخواست خارج کرتے ہوئے انہیں این سی سی آئی اے کی انکوائری میں شامل ہوکر مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے این سی سی آئی اے کو بھی ہدایت کی ہے کہ انکوائری قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائے اور محمد رضوان کو ہراساں یا غیر ضروری زحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دستیاب عدالتی تفصیلات کے مطابق این سی سی آئی اے کی انکوائری مبینہ آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق سرگرمیوں کے معاملے سے جڑی ہوئی ہے۔
این سی سی آئی اے نے رضوان سے گزشتہ کئی برسوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، آمدن، بینک اکاؤنٹس، جائیداد، سفری ریکارڈ اور دیگر مالی معلومات بھی طلب کی ہیں۔
این سی سی آئی اے کا مؤقف ہے کہ سائبر پیٹرولنگ کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر رضوان کا معاملے سے تعلق سامنے آیا، جس پر متعلقہ قانون کے تحت انکوائری جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
محمد رضوان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ کرکٹ سے متعلق کرپشن یا بیٹنگ کے معاملات کی تحقیقات کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا اینٹی کرپشن یونٹ متعلقہ فورم ہے۔
وکیل کے مطابق معاملہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو رپورٹ نہیں کیا گیا، جبکہ رضوان کو ایک موقع پر ہوٹل لابی میں بلا کر تفتیش اور موبائل فون تحویل میں لینے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن کوڈ فوجداری قانون کا متبادل نہیں۔ اس ضابطے کی موجودگی دیگر قابلِ اطلاق قوانین کے تحت کارروائی کو ختم نہیں کرتی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ متعلقہ ادارے کو اپنے دائرہ اختیار میں انکوائری جاری رکھنے کا موقع دیا جانا چاہیے، جبکہ رضوان کو بھی طلب کیے گئے سوالات کے جواب دینے اور تحقیقات میں تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ رضوان کے خلاف کسی الزام کو ثابت کرنے کا فیصلہ نہیں بلکہ این سی سی آئی اے کی انکوائری کے قانونی عمل کو آگے بڑھانے سے متعلق ہے۔


