اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس میں ایران کے صدر مسعود پیزیشکیان نے آج 23 ستمبر کو انتہائی جارحانہ اور جذباتی خطاب کیا ہے، جو جنگ کے سائے میں کیا جانے والا ایک غیر معمولی خطاب قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ خطاب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ روز کے اس دھمکی آمیز بیان کے صرف 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش جاری رکھی تو امریکہ اسلامی جمہوریہ کو تباہ کر دے گا ۔
خامنہ ای اور بچوں کی تصاویر لہرا دیں
صدر مسعود پیزیشکیان نے اپنی تقریر کا آغاز ہی ٹرمپ کے بیان کے جواب سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کل آپ کے لیے ایک تقریر تیار کی تھی، لیکن امریکی صدر نے ہمیں دہشت گرد قرار دیا۔ ہم دہشت گرد نہیں، ہم خود دہشت گردی کا شکار ہیں ۔
تقریر کے دوران انہوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی بڑی تصویر لہرائی، جو خبر رساں اداروں کے مطابق فروری کے آخر میں امریکی-اسرائیلی حملے میں تہران میں اپنے کمپاؤنڈ پر فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ان 150 سے زائد ایرانی اسکول کے بچوں کی تصاویر بھی دکھائیں جو جنگ کے ابتدائی دنوں میں بمباری میں شہید ہوئے۔
جب انہوں نے خامنہ ای کی تصویر بلند کی تو اجلاس میں موجود واحد امریکی مندوب احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کر گیا، بالکل اسی طرح جیسے ایک روز قبل ٹرمپ کی تقریر کے دوران ایرانی وفد ہال سے نکل گیا تھا۔
ہم نے کبھی جنگ شروع نہیں کی، ہم جھکیں گے نہیں
ایرانی صدر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران نے کبھی جارحیت نہیں کی، کبھی جنگ شروع نہیں کی، اور ہمیشہ مذاکرات کی میز پر عزم دکھایا ہے۔ ہم نے صرف اپنا دفاع کیا ہے۔ ہمارے معصوم لوگ بزدلانہ حملوں کا نشانہ بنے، امریکہ اور اسرائیل نے ہم پر حملہ کیا۔ ہاں، انہوں نے ہمیں مارا، لیکن ہم نے گھٹنے نہیں ٹیکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ اور جو لوگ ہمیں دھمکانا چاہتے ہیں، انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ پابندیوں، دباؤ اور بدمعاشی سے ایرانی عوام کی مزاحمت صرف بڑھے گی۔ ہم کبھی سر نہیں جھکائیں گے اور نہ گھٹنے ٹیکیں گے۔
جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر بڑا بیان
اپنے خطاب میں مسعود پیزیشکیان نے ایک بار پھر کہا کہ ایران پرامن جوہری ٹیکنالوجی چاہتا ہے، ایٹم بم نہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی بم اسرائیلی حکومت کے پاس ہیں لیکن انسپکٹر اسلامی جمہوریہ ایران آتے ہیں، اسرائیل نے کبھی ایک بھی معائنہ نہیں ہونے دیا۔ ہمیں خصوصی سلوک نہیں، برابر کا حق چاہیے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ سب اس راستے سے فائدہ اٹھائیں اور ایران کو اس کی شپنگ سے محروم رکھا جائے۔
مذاکرات کے لیے تیار، لیکن طاقت کی زبان قبول نہیں
تقریر کے آخر میں انہوں نے ٹرمپ کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم طاقت کی زبان قبول کیے بغیر، مکالمے، سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں ۔


