پی ٹی آئی احتجاج سے پہلے اسلام آباد کے راستے بند، 22 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات

اسلام آباد میں اتوار کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج سے قبل انتظامیہ نے شہر کے مرکزی داخلی اور خارجی راستوں پر دوہری تہہ میں شپنگ کنٹینرز کھڑے کرکے آمدورفت محدود کردی، جبکہ سیکیورٹی کے لیے 22 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور بڑے چوراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا، جس کے باعث اسلام آباد اور پڑوسی صوبے خیبرپختونخوا کے درمیان ٹرانسپورٹ رابطے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔

یہ اقدامات سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج سے قبل کیے گئے ہیں۔ احتجاج کی تیاریوں کے دوران حکومت کی جانب سے گرفتاریوں اور سیکیورٹی اقدامات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

علیمہ خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں

اے ایف پی کے مطابق احتجاج سے قبل عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو پنجاب کے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت حراست میں لیا گیا۔ حکام کے احکامات میں الزام عائد کیا گیا کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے کارکنوں کو متحرک اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کر رہی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی سے وابستہ ارکانِ اسمبلی، علاقائی رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے تقریباً 1500 کارکن حراست میں لیے جا چکے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عمران خان کے اہلِ خانہ اور پی ٹی آئی کارکنوں کو نشانہ بنانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم کے نمائندے بابو رام پنت کے مطابق یہ اقدامات آزادی، اظہارِ رائے، تنظیم سازی اور پُرامن اجتماع کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

حکومت کا مؤقف، شہر بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کو شہر آنے کی ضرورت نہیں اور کسی کو بھی اسلام آباد بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب جماعتِ اسلامی اور کسان رہنماؤں کی جانب سے مہنگائی اور پیٹرولیم لیویز کے خلاف پہلے سے طے شدہ احتجاج وزیراعظم شہباز شریف کی انتظامیہ سے رابطے کے بعد معطل کردیا گیا، جس کے بعد عمران خان کے حامیوں کا احتجاج ہی مرکزی مظاہرے کے طور پر باقی رہ گیا ہے۔

عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں بدعنوانی سے لے کر غداری اور تشدد پر اکسانے سمیت متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم ان مقدمات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔