جعلی اے آئی ویڈیوز سے سلمان خان بھی ہوئے پریشان

ممبئی: بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے جعلی اے آئی اور ڈیپ فیک ویڈیوز کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بگ باس 20 کے ویک اینڈ کا وار میں گفتگو کرتے ہوئے اداکار نے کہا کہ وہ خود بھی جعلی اے آئی ویڈیوز اور آواز کے غلط استعمال کا سامنا کرچکے ہیں۔

سلمان خان نے سوشل میڈیا پر اے آئی کے ذریعے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز اور آوازوں کے غلط استعمال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ کسی شخص کی اے آئی آواز استعمال کرکے اس کے نام سے ایسی باتیں یا گالیاں نشر کردیتے ہیں جو اس نے کبھی کہی ہی نہیں ہوتیں۔

ایسے لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے

سلمان خان نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بھی جعلی اے آئی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق عام لوگ بعض اوقات یہ سمجھ کر ایسی ویڈیوز شیئر کردیتے ہیں کہ واقعی سلمان خان نے ایسا کچھ کہا یا کیا ہے، لیکن جو لوگ جان بوجھ کر ایسی ویڈیوز تیار کرتے ہیں، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ جعلی مواد بنا رہے ہیں۔

اداکار نے سخت لہجے میں کہا کہ ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور جب تک چند لوگوں کو جیل نہیں بھیجا جائے گا، اس رجحان پر قابو پانا مشکل ہوگا۔

سلمان خان نے سوشل میڈیا پر سینسرشپ کی بات بھی کی

سلمان خان نے اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مزید نگرانی اور سینسرشپ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے کو اب زیادہ سنجیدگی سے لینے والے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب کسی بڑے بھارتی فنکار نے ڈیپ فیک اور اے آئی سے تیار کردہ جعلی مواد کے خلاف آواز اٹھائی ہو۔ اس سے قبل متعدد معروف اداکار اور اداکارائیں بھی اپنی تصاویر، ویڈیوز اور آواز کے مبینہ غلط استعمال پر قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کرچکے ہیں۔

سلمان خان خود بھی قانونی کارروائی کرچکے ہیں

رپورٹ کے مطابق سلمان خان نے دسمبر 2025 میں بھی اپنی تصاویر، آواز اور شناخت کے اے آئی کے ذریعے مبینہ غلط استعمال کے معاملے پر قانونی کارروائی کی تھی۔

اے آئی ٹیکنالوجی کے تیزی سے عام ہونے کے ساتھ ڈیپ فیک ویڈیوز ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ کسی معروف شخصیت کی شکل، آواز یا انداز کو مصنوعی طور پر استعمال کرکے تیار کیا گیا مواد چند لمحوں میں سوشل میڈیا پر پھیل سکتا ہے، جس سے اصل اور جعلی مواد میں فرق کرنا عام صارف کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔

سلمان خان کی حالیہ گفتگو نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ اے آئی کے دور میں کسی شخص کی شناخت، آواز اور تصویر کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کس حد تک مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔