لاہور/اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں سیاسی بے یقینی اور سکیورٹی انتظامات کے پیش نظر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جاری فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ صدر ٹرافی گریڈ ون کے پشاور اور ایبٹ آباد میں شیڈول میچز دوسرے شہروں میں منتقل کر دیے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور گورنر راج کے اعلان کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق صدر ٹرافی کے چھٹے راؤنڈ کے اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہونے والے میچز پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے، تاہم پشاور کے عمران خان اسٹیڈیم اور ایبٹ آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے مقابلے اب لاہور اور شیخوپورہ میں منعقد ہوں گے۔
نئے شیڈول کے مطابق غنی اور حیدرآباد کنگزمین اکیڈمی کے درمیان میچ 14 اکتوبر سے شیخوپورہ کی رانا نوید اکیڈمی میں کھیلا جائے گا، جبکہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے درمیان مقابلہ لاہور کے ایل سی سی اے گراؤنڈ میں ہوگا۔
آخری راؤنڈ کے شیڈول میں بھی تبدیلی
صدر ٹرافی کے لیگ مرحلے کا آخری راؤنڈ بھی ایک دن آگے بڑھا دیا گیا ہے اور اب اس کے میچز 19 اکتوبر سے شروع ہوں گے۔
کرک انفو کے مطابق لاہور کا ایل سی سی اے گراؤنڈ آخری راؤنڈ میں مارخور آئی ٹی سلوشنز اور پاکستان ٹیلی ویژن کے درمیان میچ کی بھی میزبانی کرے گا۔ اسلام آباد کے نیشنل کرکٹ گراؤنڈ میں حیدرآباد کنگزمین اکیڈمی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیان مقابلہ ہوگا، جبکہ شہر میں ڈائمنڈ کلب گراؤنڈ بھی میچز کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرافی کا لیگ مرحلہ راؤنڈ رابن فارمیٹ کے تحت کھیلا جا رہا ہے، جس میں آٹھوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف ایک، ایک میچ کھیلتی ہیں۔ لیگ مرحلے کے اختتام پر پوائنٹس ٹیبل کی سرفہرست دو ٹیمیں فائنل میں مدمقابل ہوں گی، جس کے مقام کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست
ٹورنامنٹ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ٹیم 84 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر موجود ہے، جبکہ غنی کی ٹیم 70 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
حیدرآباد کنگزمین اکیڈمی، پاکستان ٹیلی ویژن، مارخور آئی ٹی سلوشنز اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اب تک ایک، ایک میچ جیت چکی ہیں۔ گزشتہ سیزن کی فائنلسٹ ٹیمیں خان ریسرچ لیبارٹریز اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ تاحال کوئی میچ نہیں جیت سکیں۔
پشاور میں فرسٹ کلاس کرکٹ کی واپسی متاثر
پشاور اور ایبٹ آباد میں میچز کی منتقلی سے ان دونوں شہروں میں اعلیٰ سطح کی ڈومیسٹک کرکٹ کی میزبانی بھی متاثر ہوئی ہے۔
ایبٹ آباد کرکٹ اسٹیڈیم گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدگی کے ساتھ فرسٹ کلاس کرکٹ کی میزبانی کرتا رہا ہے، جبکہ پشاور کے عمران خان اسٹیڈیم میں گزشتہ سیزن تقریباً سات سال کے وقفے کے بعد سینئر مردوں کی ڈومیسٹک کرکٹ واپس آئی تھی۔ اس دوران یہاں قائداعظم ٹرافی کے نو میچز کھیلے گئے تھے۔
عمران خان اسٹیڈیم کی بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کی گئی تھی اور پی سی بی اس مقام پر اعلیٰ سطح کے مقابلے منعقد کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ پشاور کو رواں سال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا ایک میچ بھی دیا گیا تھا، جس سے قبل شہر میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے ذریعے انتظامی اور میزبانی کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔
تاہم مغربی ایشیا کے بحران کے بعد وفاقی حکومت کے ایندھن کی بچت سے متعلق اقدامات کے باعث پی ایس ایل کو لاہور اور کراچی تک محدود کر دیا گیا تھا۔
صدر ٹرافی کے میچز کی حالیہ منتقلی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سیاسی اور سکیورٹی حالات قومی سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کے شیڈول اور مختلف شہروں میں کرکٹ کی میزبانی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔


