انجان واٹس ایپ کالز سے نہ ہوں پریشان! 2 سیٹنگز آن کریں اورمشکلوں سے چھڑائیں جان

آج کے دور میں واٹس ایپ صرف دوستوں اور رشتے داروں سے رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ سائبر فراڈ اور جرائم پیشہ افراد کے لیے بھی ایک اہم ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔ نامعلوم اور غیر ملکی نمبروں سے آنے والی کالز، ڈیجیٹل گرفتاری کی دھمکیاں اور ویڈیو کال کے ذریعے بلیک میلنگ جیسے واقعات صارفین کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ ایسے میں واٹس ایپ کی دو اہم پرائیویسی سیٹنگز آپ کے تحفظ میں مدد دے سکتی ہیں۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی جرائم پیشہ لوگ واٹس ایپ کو اپنے دھندوں کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ بیرون ملک نمبرز سے آڈیو اور ویڈیو کال کے ذریعے بھتہ طلب کیا جانا تو عام ہے۔ اسی طرح قابلِ اعتراض مواد دکھا کر اسکرین شاٹس لینے اور بعد میں بدنام کرنے کی دھمکی دے کر بھاری رقوم کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔ یہ سارے کام آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کئے بغیر ہی کئے جاتے ہیں ۔۔

انجان اور غیر ضروری کالز سے نجات کے لئ واٹس ایپ نے ہی دو فیچر شامل کررکھے ہیں۔۔ جس کے بارے میں عام صارفین کو معلوم ہی نہیں ہوتا۔۔

سائلنٹ ان نون کالرز

واٹس ایپ کا سائلٹ ان نون کالرز فیچر نامعلوم نمبروں سے آنے والی کالز کی گھنٹی خاموش کر دیتا ہے۔ اس طرح اچانک آنے والی مشکوک کال آپ کو پریشان نہیں کرے گی، جبکہ کال کی تفصیل واٹس ایپ کے کالز ٹیب میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اس کے لئے سب سے پہلے واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جائیں۔ پرائیویسی میں کالز کا آپشن منتخب کریں۔ اور سائلنٹ ان نون کالرز کو آن کر دیں۔

یاد رہے کہ اس سیٹنگ سے نامعلوم کالز مکمل طور پر بلاک نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی رنگ ٹون خاموش ہو جاتی ہے۔

پروٹیکٹ آئی پی ایڈریس ان کالز

واٹس ایپ کی پروٹیکٹ آئی پی ایڈریس ان کالز سیٹنگ بھی صارفین کی پرائیویسی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ اسے فعال کرنے سے کالز واٹس ایپ کے سرورز کے ذریعے ریلے کی جاتی ہیں، جس سے کال کرنے والے دوسرے شخص کے سامنے آپ کا آئی پی ایڈریس ظاہر ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

اسے آن کرنے کے لئے واٹس ایپ کی واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جائیں۔ پرائیویسی میں ایڈوانسڈ کے آپشن پر ٹیپ کریں۔پروٹیکٹ آئی پی ایڈریس ان کالز کو آن کر دیں۔

اس فیچر سے کال کے دوران آئی پی ایڈریس کے ذریعے آپ کی شناخت یا نیٹ ورک کی معلومات معلوم کرنے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے، تاہم یہ ہر قسم کے سائبر حملے یا ٹریکنگ سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا۔

سائبر فراڈ سے بچنے کے لیے یہ احتیاطیں بھی ضروری

نامعلوم نمبروں سے آنے والی مشکوک کالز پر ذاتی معلومات، بینک کی تفصیلات، او ٹی پی یا اسکرین شیئرنگ کی اجازت ہرگز نہ دیں۔ خود کو سرکاری افسر بتانے والے کسی شخص کی دھمکی پر گھبرا کر رقم منتقل نہ کریں اور مشکوک نمبروں کو بلاک اور رپورٹ کریں۔

یاد رکھیں، واٹس ایپ کی یہ دو سیٹنگز آپ کی پرائیویسی مضبوط کر سکتی ہیں، لیکن سائبر فراڈ سے بچنے کے لیے محتاط رہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔