ایران جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات، آئی ایم ایف نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایران جنگ کے باعث توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود آئی ایم ایف نے 2026 میں عالمی معاشی ترقی کا تخمینہ بڑھا کر 3.1 فیصد کر دیا ہے، تاہم خبردار کیا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کی تازہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق عالمی معاشی ترقی کی شرح 2025 کے 3.5 فیصد کے مقابلے میں رواں سال 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی مہنگائی بڑھ کر 4.7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ترقی یافتہ معیشتوں کو سہارا دے رہی ہے، لیکن ایران جنگ کے باعث مہنگی توانائی درآمد کرنے والے ممالک مشکلات سے دوچار ہیں۔

آئی ایم ایف نے سعودی عرب کی معیشت میں رواں سال 3.3 فیصد سکڑاؤ کی پیش گوئی بھی کی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی مجموعی معیشت میں 0.3 فیصد کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ طویل جنگ، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی بلند قیمتیں مہنگائی میں اضافے اور سرکاری مالیات پر دباؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔

آئی ایم ایف نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے عارضی اور ہدف پر مبنی اقدامات کیے جائیں، جبکہ مالی استحکام اور مہنگائی پر قابو پانے کو ترجیح دی جائے۔