آذربائیجان میں اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہو گیا ہے ۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق 21 ستمبر 2026 کو آذربائیجان کی وزراء کونسل نے اسکول یونیفارم کے قوانین میں ترمیم کی۔ نئے قانون میں لفظ حجاب کا ذکر نہیں، لیکن کہا گیا کہ اسکول کا لباس سیکولر تعلیم کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔
اس ترمیم کے بعد دارالحکومت باکو کے سٹی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اسکولوں میں چیکنگ شروع کی۔ اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر درجنوں ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں حجاب پہننے والی بچیوں کو اسکول کے گیٹ سے واپس بھیجا جا رہا ہے اور ٹیچرز کو کلاس لینے سے روکا جا رہا ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ یہ یکساں یونیفارم نافذ کرنے کے لیے ہے کیونکہ آذربائیجان آئین کے مطابق سیکولر ریاست ہے، لیکن والدین کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔
باکو کے اسکول نمبر 90 کی ٹیچر کو کہا گیا کہ حجاب اتاریں یا نوکری چھوڑ دیں۔ جب طلبہ کو پتا چلا تو وہ اپنی ٹیچر سے لپٹ کر رونے لگیں، یہ ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہے۔ ٹیچر نے کہا مجھے بہت تکلیف ہوئی، حجاب پہننا یا نہ پہننا میری ذاتی پسند ہونی چاہیے۔
آذربائیجان کی وزارت داخلہ کے مطابق 37 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسکول کے عملے سے جھگڑا کیا، گاراداغ میں پرنسپل کی گاڑی کو آگ لگا دی اور یاسمل میں ایک اسکول کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ ان پر پبلک آرڈر خراب کرنے کی دفعہ 233 کے تحت مقدمہ درج ہے۔
ترکیے کے شہر استنبول میں آذربائیجان کے قونصل خانے کے باہر بھی مظاہرہ ہوا اور جس میں مطالبہ کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں یکساں یونیفارم کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ اس پر آذربائیجان صدر الہام علیوف نے بغیر ترکیے کا نام لیے کہا کہ کسی کو آذربائیجان کے طرز زندگی میں مداخلت کا حق نہیں۔


