فیصل قریشی نے پیسوں کے لئے فلموں پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھ لے لیا

کراچی: پاکستان کے معروف اداکار فیصل قریشی نے اپنی نئی پنجابی فلم مینگو جٹ کے خلاف مبینہ طور پر چلائی جانے والی منفی مہم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فلم کے خلاف پیسے دے کر پروپیگنڈا کرنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے، جس کا نقصان صرف ایک فلم کو نہیں بلکہ پوری فلم انڈسٹری کو اٹھانا پڑتا ہے۔

فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں فیصل قریشی نے میں فلموں پر تعمیری تنقید کی مخالفت نہیں کی، بلکہ ان کا اعتراض مبینہ طور پر منظم اور معاوضے کے عوض چلائی جانے والی منفی مہم پر رہا۔

انہوں نے کہا کہ منفی پروپیگنڈا کرنے والے افراد اپنا فائدہ تو سوچ لیتے ہیں، لیکن اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ان کی سرگرمیوں سے کتنے لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اداکار کا کہنا تھا کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ایک فلم جمعے کو سینما گھروں میں ریلیز ہوتی ہے اور اگلی ہی صبح اس کے خلاف منفی تبصرے سامنے آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض افراد نے فلم دیکھے بغیر ہی اس پر اپنی رائے قائم کرلی، جبکہ مختلف لوگوں کے تبصروں میں ایک جیسے الفاظ اور نکات بھی دکھائی دیے۔

فیصل قریشی نے واضح کیا کہ کسی فلم کا اچھا یا برا ہونا الگ معاملہ ہے، کیونکہ ہر ناظر کی پسند اور رائے مختلف ہوسکتی ہے۔ تاہم، ان کے بقول سنجیدہ فلمی ناقدین فلم دیکھنے اور اس کا جائزہ لینے میں وقت صرف کرتے ہیں، جبکہ مبینہ طور پر پیسے دے کر چلائی جانے والی منفی مہم میں فلم کی ریلیز کے فوراً بعد ہی تنقیدی تبصرے سامنے آنے لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی فلم کو ہٹ یا فلاپ قرار دینے کا اصل حق ناظرین کو حاصل ہے۔ منفی پروپیگنڈے سے فلم دیکھنے والوں کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سینما کے ٹکٹ مہنگے ہیں اور شائقین فلم دیکھنے کے لیے خاصی رقم خرچ کرتے ہیں۔

اداکار نے خبردار کیا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری پہلے ہی محدود وسائل اور ناظرین کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں فلموں کے خلاف مبینہ منفی مہمات انڈسٹری کی مشکلات میں مزید اضافہ کرسکتی ہیں اور اس سے وابستہ افراد کا روزگار بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

فیصل قریشی نے اپنے پیغام کے اختتام پر مبینہ منفی مہم میں ملوث افراد کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ دوسروں کے ساتھ جو کچھ کررہے ہیں، ممکن ہے کل انہیں بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑیں۔