لندن: اینٹی بائیوٹکس سے بے اثر ہونے والے بیکٹیریا کے خلاف اے آئی کا تیار کردہ وائرس آزما لیا گیا، سائنس دانوں کو نئے علاج کی امید، مگر مریض کی حالت اور علاج کے نتائج تاحال سامنے نہیں آئے۔
طبی سائنس ایک ایسے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت صرف بیماریوں کی تشخیص ہی نہیں بلکہ ان کے علاج کے نئے طریقے تیار کرنے میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔ امریکا میں ایک غیر معمولی تجربے کے دوران پہلی بار اے آئی کی مدد سے ڈیزائن کیے گئے وائرس ایک انسانی مریض کے علاج کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔
اس پیش رفت نے ان مریضوں کے لیے علاج کی نئی امید پیدا کی ہے جو ایسے بیکٹیریائی انفیکشنز کا سامنا کر رہے ہیں جن پر عام اینٹی بائیوٹکس مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔ تاہم اس تجربے کو ابھی کامیاب علاج قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ مریض کی صحت میں بہتری یا انفیکشن کے خاتمے سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
کیلی فورنیا میں قائم ٹیکنالوجی کمپنی ریڈیکل نیومیرکس کے مطابق اس تجربے میں اس کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل اومنی ون کی مدد سے تیار کردہ بیکٹیریوفیجز استعمال کیے گئے۔
یہ مخصوص وائرس انسانی خلیوں کے بجائے بیکٹیریا کو نشانہ بناتے ہیں۔ طبی اصطلاح میں اس طریقہ علاج کو ’فیز تھراپی‘ کہا جاتا ہے، جس پر پہلے سے تحقیق جاری ہے اور بعض پیچیدہ انفیکشنز میں اسے تجرباتی طور پر استعمال بھی کیا جاتا ہے۔
روایتی طریقے سے مختلف کیسے؟
عام طور پر فیز تھراپی میں ماہرین قدرتی طور پر موجود ایسے وائرس تلاش کرتے ہیں جو کسی مخصوص مریض کے جسم میں انفیکشن پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو ختم کر سکیں۔ لیکن اس نئے تجربے میں اے آئی نے وائرس کے بعض حصوں کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنے میں مدد دی، تاکہ وہ مطلوبہ بیکٹیریا کو زیادہ مؤثر انداز میں پہچان سکیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مستقبل میں مریض کے انفیکشن کے مطابق وائرس تیار کرنے کا عمل چند دنوں تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایسے مریضوں کے لیے علاج تلاش کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے جن کے پاس روایتی ادویات کے محدود امکانات باقی رہ جاتے ہیں۔
یہ تجرباتی علاج خصوصی طبی اجازت کے تحت دیا گیا، جس کے ذریعے ایسے مریضوں پر نئے طریقہ علاج آزمانے کی گنجائش ہوتی ہے جن کے لیے دستیاب روایتی علاج ناکافی ہوں۔
لیبارٹری میں کامیابی، مگر انسانی نتائج کا انتظار
ریڈیکل نیومیرکس کے مطابق مریض سے حاصل کیے گئے بیکٹیریا کے نمونوں پر پہلے تجربہ گاہ میں اے آئی سے تیار کردہ وائرس آزمائے گئے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان وائرسز کے امتزاج نے اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا کو نمونے میں مکمل طور پر ختم کر دیا۔
تاہم لیبارٹری میں کسی بیکٹیریا کو ختم کرنا اور انسانی جسم میں انفیکشن کا کامیاب علاج کرنا دو مختلف مراحل ہیں۔ کمپنی نے نہ تو مریض کی مکمل تشخیص ظاہر کی ہے اور نہ ہی علاج کے بعد اس کی طبی حالت سے متعلق تفصیلات فراہم کی ہیں۔
اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کمپنی کے اعلان کے مطابق اس تجربے کے نتائج ابھی کسی سائنسی تحقیقی جریدے میں شائع ہو کر آزادانہ جانچ اور توثیق کے مراحل سے نہیں گزرے۔
اسٹینفورڈ کی تحقیق نے بھی بڑھائی امید
یہ تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں سال اگست میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور آرک انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے بھی اے آئی کی مدد سے نئے وائرس تیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ان محققین نے تجربہ گاہ میں ایسے وائرس تیار کیے تھے جو ای کولی (E. coli) بیکٹیریا کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ تاہم ان کی تحقیق انسانی علاج تک نہیں پہنچی تھی بلکہ تجربات لیبارٹری میں کیے گئے تھے۔
ماہرین کے نزدیک یہ پیش رفت طب میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ حیاتیاتی تحفظ کے خدشات بھی اہم ہیں۔ ایسے سسٹمز کی صلاحیتوں کو ذمہ دارانہ اور سخت نگرانی کے تحت استعمال کرنا ضروری ہے۔
اگر مستقبل میں اس طریقہ علاج کی افادیت اور حفاظت کی سائنسی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے بیکٹیریا سے لڑنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔


