تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کی مسلح افواج کو ہدایت کی ہے کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی نوعیت کے خطرے کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے، جبکہ ممکنہ جوابی کارروائی کو جغرافیائی حدود تک محدود نہ رکھا جائے۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اعلیٰ فوجی کمانڈروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ دشمنوں کے ساتھ ممکنہ محاذ آرائی کے لیے بھرپور تیاری اور مؤثر دفاعی صلاحیت برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق زیادہ سے زیادہ دفاعی روک تھام کے لیے ہر سطح کے خطرے کا فوری جواب دینے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فوجی یا دہشت گرد حملے کیے گئے تو ان کے خاتمے کا وقت اور شرائط ایران کی مسلح افواج اور عوام طے کریں گے۔
انہوں نے فوجی قیادت کو امریکا اور اسرائیل سے متعلق ممکنہ اہداف کی فہرست پر نظرثانی کرنے کی بھی ہدایت کی، تاکہ ایران کے مطابق ان کے تمام مادی اور غیر مادی اثاثے ایرانی افواج کی پہنچ میں ہوں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں دوبارہ فوجی تصادم کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب قطر کی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور قطری حکام نے تہران میں ایرانی قیادت سے مذاکرات کیے ہیں، جن کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ملک اور عوام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کا مقابلہ کریں گی۔ یوں ایک طرف ایران کی جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں تو دوسری طرف خطے کے ممالک سفارتی کوششوں کے ذریعے ممکنہ تصادم روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


