غزہ میں کباڑ سے بجلی! 60 سالہ فلسطینی انجینئر کے ’جگاڑ‘ کا کمال

خان یونس : غزہ کے ایک گنجان بے گھر کیمپ میں خیموں کی بھول بھلیوں کے اوپر سمندری ہوا میں کباڑ اور ملبے سے بنی دیسی ونڈ ٹربائنز گھوم رہی ہیں، جو جدوجہد کرنے والے فلسطینیوں کے لیے بجلی کا ذریعہ بن گئی ہیں۔

جنوبی خان یونس کیمپ میں سابق انجینئرنگ کے طالب علم کمال الدباری نے ان خاندانوں کے لیے اپنی مہارت کو بروئے کار لایا ہے جو غزہ کے بیشتر لوگوں کی طرح بے گھر ہیں اور تباہ شدہ پاور گرڈ تک براہ راست رسائی سے محروم ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق اپریل 2026 تک غزہ کی بجلی کی پیداوار اور ترسیل کی 90 فیصد سے زیادہ صلاحیت تباہ ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجہ اسرائیلی حملے ہیں جنہوں نے گھروں اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا۔

60 سالہ کمال الدباری، جنہیں مقامی طور پر ابو ایمن کہا جاتا ہے، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ سے بے گھر ہوئے ہیں۔ وہ زمین پر بیٹھ کر پلاسٹک کی میز پر بجلی کی تاروں اور کباڑ سے سرکٹ جوڑتے ہیں، ملٹی میٹر سے ٹیسٹ کرتے ہیں تو ایک چھوٹا بلب جلتا ہے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، “جب سولر پینل سستے تھے تو ہم نے ایک خریدا اور سورج کے پیچھے گھماتے رہتے تھے، لیکن تین سال کی جنگ کے بعد قیمت آسمان پر پہنچ گئی ہے۔”

ان کے مطابق اب غزہ میں ایک سولر پینل کی قیمت کم از کم 15000 شیکل (تقریباً 5,000 ڈالر) ہے، جو عام غزہ والوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ تین سال سے ہمارے پاس کام یا آمدنی نہیں ہے۔ تبھی ونڈ ٹربائن کا خیال آیا۔ ہم نے ملبے سے پرزے نکالے۔

کیسے بنتی ہے بجلی؟

یہ ٹربائنز اسکوٹر کی موٹروں اور پانی کی پرانی ٹینکیوں کو کاٹ کر بنے بلیڈز سے تیار کی جاتی ہیں۔ ہوا بلیڈز کو گھماتی ہے، موٹر بجلی پیدا کرتی ہے، جو تباہ شدہ گھروں سے ملنے والے سرکٹ سے گزر کر بیٹریوں میں ذخیرہ ہو جاتی ہے۔

یہ بجلی موبائل چارج کرنے، لائٹس، پنکھے اور حتیٰ کہ الیکٹرک ریزر چلانے کے لیے کافی ہے، جو خیموں میں رہنے والوں کے لیے عیاشی بن چکی ہے۔

کیمپ کے رہائشی 50 سالہ صالح بن حسن کہتے ہیں کہ اس سسٹم نے سب کچھ بدل دیا ہے۔

غزہ میں صحت کی سہولیات نایاب ہیں، ایسے میں یہ بجلی طبی آلات کے لیے بھی زندگی بچانے والی ہے۔ اگر رات کے وقت کسی بچے کو نیبولائزر (دوا سونگھنے کا آلہ) کی ضرورت ہو تو ہم کس کے پاس جائیں؟ بجلی کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہم اپنے بھائی ابو ایمن کے پاس جاتے ہیں۔

تقریباً تمام غزہ کے باشندے جنگ کے دوران کم از کم ایک بار بے گھر ہوئے، اور اب زیادہ تر ایک چھوٹے سے علاقے میں رہ رہے ہیں جو اب بھی حماس کے زیر انتظام ہے، جبکہ اسرائیل 60 فیصد سے زیادہ علاقے کو کنٹرول کرتا ہے۔ پیداوار معمولی ہے، لیکن جہاں ہر چیز کی قلت ہے، وہاں ہر واٹ قیمتی ہے۔

ابو ایمن کہتے ہیں کہ یہ ہمیں حوصلہ دیتی ہیں۔۔ جب تک اللہ ہمیں اس آزمائش سے نکال کر گھر واپس نہیں لے جاتا۔