نیپال میں بھنگ کی کاشت کی مشروط اجازت

کھٹمنڈو: نیپال کی سپریم کورٹ نے کئی دہائیوں بعد مخصوص شرائط کے ساتھ بھنگ کی کاشت کی اجازت دے دی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اس مقدمے کے ایک درخواست گزار نے بتایا کہ عدالت نے حکومت کو بعد مخصوص شرائط کے ساتھ بھنگ کی کاشت کے حوالے سے ضروری انتظامات کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ حکومت کنٹرول شدہ کاشت اور بھنگ کی پیداوار کے لیےضروری انتظامات کرے۔

فیصلے کے مطابق بھنگ کی کاشت طبی، سائنسی، زرعی، باغبانی اور صنعتی مقاصد کے لیے کی جا سکے گی۔ عدالت نے تفریحی استعمال کے حوالے سے بھی وسیع تر مشاورت کی ہدایت کی ہے۔

یہ تاریخی فیصلہ مئی 2025 میں جاری کیا گیا تھا، تاہم ستمبر میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران لگنے والی آگ میں عدالتی دستاویزات تباہ ہو گئی تھیں۔ فیصلے کا مکمل متن اسی ہفتے جاری کیا گیا ہے۔

نیپال نے 1973 میں امریکا کی زیر قیادت منشیات کے خلاف عالمی مہم کے دوران بین الاقوامی دباؤ پر بھنگ کے ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کر دیے تھے۔

اس سے قبل کھٹمنڈو بھنگ کے شوقین افراد کے لیے جنت سمجھا جاتا تھا، جہاں ہزاروں غیر ملکی سیاح حکومت سے منظور شدہ دکانوں سے چرس خریدنے آتے تھے۔

سابق وزیر صحت بیرودھ کھٹی واڑہ طویل عرصے سے اس پابندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 2020 میں پارلیمنٹ میں اس سے متعلق تحریک پیش کرنے والے کھٹی واڑہ نے کہا، “یہ فیصلہ طویل انتظار کے بعد آیا ہے۔

انہوں نے اے ایف پی سے کہا کہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک نے قانونی کاشت کو اپنا لیا ہے، ہمیں اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ ریگولیشن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، آمدنی میں اضافہ ہوگا اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام ہوگی۔

نیپال میں بھنگ کی تاریخی جڑیں بہت گہری ہیں، جہاں یہ جنگلی طور پر اگتی ہے اور اس کے تنے، پتے اور رال روایتی طور پر خوراک، ٹیکسٹائل اور دیسی ادویات میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔

ہر سال سینکڑوں ہندو سادھو کھٹمنڈو کے پشوپتی ناتھ مندر میں جمع ہوتے ہیں، جہاں وہ ہندو دیوتا شیو سے عقیدت کے اظہار میں کھلے عام بھنگ نوشی کرتے ہیں۔

تاہم ملک کے دیگر حصوں میں سزائیں اب بھی سخت ہیں۔ چرس فروشی پر 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے اور پولیس ہر سال ہزاروں بھنگ کے پودے ضبط کر کے تلف کر دیتی ہے۔