وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق، ملک میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.3 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح اب بھی 14 فیصد کی سطح پر برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 19 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عوامی استعمال کی اہم اشیاء میں آلو کی قیمت میں 3 فیصد (1.5 روپے فی کلو) اضافہ ہوا، جبکہ مٹن 10 روپے 39 پیسے فی کلو تک مہنگا ہوا۔
اسی طرح چکن کی قیمت میں 1 روپے 15 پیسے، انڈوں میں 1 روپے 52 پیسے فی درجن اور کوکنگ آئل کی قیمت میں 20 روپے سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا۔ دیگر مہنگی ہونے والی اشیاء میں بریڈ، صابن، کپڑے، گڑ، تازہ دودھ اور دہی بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب، ایک ہفتے کے دوران 9 اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جس سے صارفین کو کسی حد تک ریلیف ملا۔ سب سے نمایاں کمی ٹماٹر کی قیمت میں دیکھی گئی جو 25 روپے 87 پیسے فی کلو تک سستے ہوئے۔
پیاز کی قیمت میں 7 روپے اور لہسن میں 20 روپے فی کلو کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر بھی 377 روپے تک سستا ہوا، جبکہ آٹے کا تھیلا 8 روپے سستا ہوا۔ چینی اور کیلے کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی نوٹ کی گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق مارکیٹ میں 24 اشیاء ایسی رہیں جن کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ مستحکم رہیں۔ ان میں چاول، بیف اور خشک دودھ جیسی ضروری اشیاء شامل ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ٹماٹر اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑی کمی نے ہفتہ وار انڈیکس کو نیچے لانے میں مدد دی، لیکن اشیائے خوردونوش کی ایک بڑی تعداد اب بھی مہنگائی کی جانب مائل ہے۔











