ایران اورامریکا کےدرمیان بیک ڈور رابطے تاحال جاری

ایران اورامریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دے رہے ہیں تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بیک ڈور رابطے تاحال جاری ہیں۔ جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع پر اپنے اعلیٰ سکیورٹی مشیروں سے مشاورت شروع کردی ہے، جبکہ ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس ماہ پاکستان میں ہونے والی مذاکراتی کوششوں کی ناکامی کا ذمہ دار واشنگٹن کو قرار دیا ہے۔ یہ مذاکرات اس تنازع کے خاتمے کے لیے پہلی بڑی سفارتی کوشش تھے، تاہم کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ آئندہ لائحہ عمل پر غور کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ نیا معاہدہ امریکی شرائط پر پورا نہیں اترتا، جس کے باعث پیش رفت رک گئی ہے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو تحریری پیغامات بھیجے ہیں، جن میں اپنی “ریڈ لائنز” واضح کی گئی ہیں۔ ان میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور جوہری مذاکرات کو بعد میں زیرِ بحث لانے کی تجاویز شامل ہیں۔

ایرانی تجویز مرحلہ وار مذاکرات پر مبنی ہے، جس میں پہلے جنگ بندی اور اس بات کی ضمانت شامل ہے کہ امریکہ دوبارہ کارروائی نہیں کرے گا۔ اس کے بعد دیگر اہم معاملات، بشمول ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کی جائے گی۔

ادھر صدر ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کے مجوزہ دورہ پاکستان کو منسوخ کر دیا ہے، جس سے نئی بات چیت کی امیدیں مزید کمزور ہو گئی ہیں۔ انہوں نے حالیہ بیان میں کہا کہ اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو وہ خود رابطہ کرے۔

پاکستانی حکام کے مطابق بیک ڈور رابطے تاحال جاری ہیں، تاہم فی الحال کسی براہِ راست ملاقات کا امکان نہیں جب تک دونوں فریق کسی ممکنہ معاہدے کے قریب نہ پہنچ جائیں۔