وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کی معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری کی نوید سنا دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی میکرو اکنامک صورتحال مستحکم ہو رہی ہے اور حکومت کی درست پالیسیوں کے باعث پرائمری اور فسکل سرپلس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں یورپی یونین پاکستان سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ رواں سال معاشی شرح نمو 4 فیصد رہنے کی امید ہے، جبکہ قرضوں کی ادائیگی (ڈیٹ سروسنگ) میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ انہوں نے ایک اہم سنگ میل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا ہے، جو معیشت کی بحالی کی واضح علامت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جون کے آخر تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اپریل میں یورو بانڈ کے 1.3 ارب ڈالر ادا کر دیے گئے ہیں، جبکہ 750 ملین ڈالر کے نئے یورو بانڈز بھی جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان مئی کے وسط تک 250 ملین ڈالر کے ‘پانڈا بانڈز’ جاری کرنے کے لیے پرامید ہے، جس سے بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کا اعتماد بحال ہوگا۔
وزیر خزانہ نے آئی ٹی اور ہائی ویلیو ٹیک برآمدات میں اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں صرف مارچ کے مہینے میں 260 ملین ڈالرز آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت معیشت کو ڈیجیٹل کرنے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب 92 فیصد ترسیلاتِ زر ڈیجیٹل طریقہ کار کے ذریعے پاکستان آ رہی ہیں۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کراتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو اپنا منافع واپس لے جانے میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں ہے۔ حکومت نہ صرف سرکاری ادائیگیوں کو ڈیجیٹل کر رہی ہے بلکہ ٹیکس چوری روکنے اور شفافیت لانے کے لیے بھی سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔


