فیس بک اور انسٹاگرام کم عمر بچوں تک رسائی روکنے میں ناکام : یورپی یونین

یورپی یونین نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ 13 سال سے کم عمر بچوں کو فیس بک اور انسٹاگرام استعمال کرنے سے مؤثر طور پر روکنے میں ناکام رہی ہے، جس سے بچوں کو نامناسب مواد تک رسائی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

یورپی کمیشن کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میٹا کے اقدامات اس کے اپنے قواعد پر عملدرآمد کے لیے ناکافی ہیں، حالانکہ کمپنی کی پالیسی کے تحت ان پلیٹ فارمز کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 13 سال مقرر ہے۔

یورپی یونین کی ٹیکنالوجی کمشنر ہینا ورک کُونین نے کہا کہ “قوانین صرف کاغذی نہیں ہونے چاہئیں بلکہ صارفین، خصوصاً بچوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔”

یہ تحقیقات ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت مئی 2024 میں شروع کی گئی تھیں، جس کا مقصد بڑی ٹیک کمپنیوں کو آن لائن خطرات سے نمٹنے کا پابند بنانا ہے۔ اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو میٹا کو اپنی عالمی سالانہ آمدنی کا 6 فیصد تک جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یورپی حکام کے مطابق بچے آسانی سے غلط تاریخِ پیدائش درج کر کے اکاؤنٹ بنا لیتے ہیں، جبکہ رپورٹنگ سسٹم بھی پیچیدہ اور غیر مؤثر پایا گیا ہے۔ مزید یہ کہ تحقیقات میں بتایا گیا کہ یورپ میں تقریباً 10 سے 12 فیصد کم عمر بچے ان پلیٹ فارمز تک رسائی رکھتے ہیں۔

دوسری جانب میٹا نے ان الزامات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کی نشاندہی اور خاتمے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

یورپی یونین حالیہ مہینوں میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے اقدامات تیز کر چکی ہے اور سوشل میڈیا کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، جیسا کہ آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر افراد پر پابندی کی مثال سامنے آ چکی ہے۔