فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے افغان خواتین کی جلا وطن فٹبال ٹیم کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد یہ ٹیم اب لاس اینجلس اولمپکس 2028 سمیت مختلف عالمی ایونٹس میں افغانستان کی نمائندگی کر سکے گی۔
یہ ٹیم، جو اب افغان ویمن یونائیٹڈ کے نام سے پہچانی جائے گی، تقریباً پانچ سال قبل افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی تھی۔
FIFA کونسل کے اجلاس میں منظور کیے گئے اس فیصلے کے تحت ٹیم کو بطور نمائندہ اسکواڈ تسلیم کیا گیا ہے، اگرچہ وہ آئندہ فیفا ویمنز ورلڈ کپ 2027 کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکے گی، تاہم 2028 اولمپکس کی کوالیفائنگ مہم میں حصہ لینے کی اہل ہوگی۔
FIFA صدر جیانی انفینٹینو نے کہا کہ یہ اقدام ان کھلاڑیوں کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرے گا جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ملک کی نمائندگی سے محروم ہو گئی تھیں۔
ٹیم کی سابق کپتان اور انسانی حقوق کی کارکن خالدہ پوپل نے اس فیصلے کو خواتین کھلاڑیوں کی جدوجہد کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ برسوں کی کوششوں کے بعد بالآخر عالمی سطح پر ان کی آواز سنی گئی ہے۔
اس وقت افغان خواتین فٹبالرز کی بڑی تعداد آسٹریلیا، امریکا اور یورپ میں مقیم ہے، جبکہ ٹیم کی کوچنگ برطانوی کوچ پاؤلین ہیمل کر رہی ہیں۔











