آسٹریلیا میں بچی کے قتل پر ہنگامے، مشتعل ہجوم اور پولیس میں جھڑپیں

آسٹریلیا کے دور افتادہ قصبے الائس اسپرنگ میں پانچ سالہ مقامی (صدیوں سے آباد نسل) بچی کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے، جہاں مشتعل افراد اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپتال کے باہر جمع ہجوم نے اس وقت ہنگامہ آرائی کی جب بچی کے مبینہ قاتل کو وہاں علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔ صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ پولیس کو آنسو گیس استعمال کرنا پڑی جبکہ ایک پولیس وین کو آگ لگا دی گئی۔

پولیس کے مطابق اہل خانہ کی خواہش پر بچی کی فرضی شناخت کیومانجیائی کی ننھی بچی کے نام سےظاہر کیگئی ہے۔ چند روز قبل لاپتہ ہو گئی تھی۔وسیع تلاش کے بعد اس کی لاش کیمپ سے تقریباً 5 کلومیٹر دور ملی۔

لاش ملنے کے چند گھنٹوں بعد پولیس نے جیفرسن لیوس نامی مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔

رپورٹس کے مطابق، ملزم نے خود کو مقامی افراد کے حوالے کیا، لیکن مشتعل افراد نے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ بے ہوش ہو گیا۔جب پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو وہ بھی ہجوم کے غصے کا شکار بنیں۔

پولیس کمشنر مارٹن ڈولے کے مطابق ہم نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے، مگر جو کچھ ہوا وہ ناقابلِ قبول ہے۔اس دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار کو چہرے پر شدید چوٹ آئی۔

اسپتال کے باہر جمع ہجوم نے ملزم تک پہنچنے کی کوشش کی اور بدلہ لیا جائے کے نعرے لگائے، جو مقامی روایتی سزاؤں کی طرف اشارہ تھا۔

پولیس نے ملزم کو اس کی حفاظت کے پیش نظر ڈارون منتقل کر دیا، جہاں اسے حراست میں رکھا گیا ہے۔

ناردرن ٹیریٹری کی وزیراعلیٰ لیا فینوچیارو نے اس واقعے کو بدترین خدشات کی حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم پر جلد فردِ جرم عائد کی جائے گی، جبکہ حکام حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔