اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی قرضوں کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جس کے مطابق حکومت کا مجموعی قرضہ 80 ہزار 524 ارب روپے (تقریباً 288.52 ارب ڈالرز) کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران حکومت کے مجموعی قرض میں 2 ہزار 636 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نومبر 2025 تک وفاقی حکومت کا قرض 77 ہزار 543 ارب روپے تھا، جو کہ مسلسل اضافے کے بعد موجودہ سطح پر پہنچا ہے۔
مجموعی قرضوں کا 71 فیصد حصہ مقامی قرضوں پر مشتمل ہے، جس کی مالیت 57 ہزار 566 ارب روپے ہے۔ حکومت نے محض 6 ماہ کے دوران مقامی طور پر 4 ہزار 142 ارب روپے کا مزید قرض لیا۔
مارچ 2026 تک حکومت کا بیرونی قرض 22 ہزار 959 ارب روپے رہا۔ ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ستمبر سے مارچ کے دوران حکومت نے اپنے بیرونی قرض میں 222 ارب روپے کی کمی کی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے تین ماہ (ستمبر تک) میں حکومت نے 1 ہزار 283 ارب روپے کا قرض واپس لوٹایا۔ تاہم اس کے بعد ستمبر سے مارچ تک کے عرصے میں حکومت کو 3 ہزار 919 ارب روپے کا نیا قرض لینا پڑا، جو کہ ادائیگیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔











