روس اور یوکرین میں جاری جنگ کے دوران جدید جنگی ٹیکنالوجی نے ایک نئی سمت اختیار کرلی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈرون سوارمز یا ڈرون جھنڈ مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ مغربی یوکرینی شہر لویو میں منعقدہ ایک خفیہ دفاعی کانفرنس میں فوجی ماہرین اور دفاعی صنعت سے وابستہ شخصیات نے اس ٹیکنالوجی کو جنگ کا اگلا بڑا مرحلہ قرار دیا۔
ڈرون سوارمز دراصل ایسے خودکار ڈرونز کے جُھنڈ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہوئے بغیر انسانی مداخلت کے مخصوص اہداف پر حملہ، نگرانی یا مشترکہ کارروائی انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یوکرین اس ڈرون وار فیئر ٹیکنالوجی کو تیزی سے فروغ دے رہا ہے۔
فوجی ماہر یوری فیڈورینکو کے مطابق اس ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر غیر معمولی دلچسپی پائی جاتی ہے اور ہر کوئی عملی مظاہرہ دیکھنے کا خواہش مند ہے۔ ان کے بقول فوج کئی برسوں سے اس نظام کے منتظر ہے، البتہ اصل سوال یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر میدانِ جنگ میں کب استعمال کیا جائے گا۔
یوکرینی فوج کے نائب کمانڈر انچیف آندری لیبیڈینکو نے کہا کہ اس وقت ڈرون سوارمز کے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اگرچہ یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم آنے والے چند برسوں میں ان کی بڑے پیمانے پر تعیناتی ممکن ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد فوجیوں کی جانیں بچانا اور روسی افواج کی عددی برتری کا مقابلہ کرنا ہے۔
دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون سوارمز کے حوالے سے بہت زیادہ جوش و خروش پایا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں مکمل خودمختار جنگی نظام اب بھی کئی تکنیکی اور اخلاقی رکاوٹوں کا سامنا کررہے ہیں۔ امریکی کمپنی شیلڈ اے آئی کے شریک بانی برینڈن سینگ کے مطابق موجودہ نظام مکمل طور پر خودمختار فیصلے کرنے کے قابل نہیں، خاص طور پر یہ تعین کرنا کہ کون سا ہدف جائز ہے۔ ان کے بقول انسان کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل رکھنا ضروری ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ خودکار جنگی ٹیکنالوجی صرف ڈرون سوارمز تک محدود نہیں بلکہ اس میں نیویگیشن، ہدف کی شناخت اور خودکار حملوں سمیت کئی پہلو شامل ہیں۔ دفاعی کمپنی فورتھ لا کے سربراہ یاروسلاو آژنیک نے اس ٹیکنالوجی کو موجودہ دور کا مین ہٹن پراجیکٹ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر روس یا دیگر حریف ممالک اس میدان میں سبقت لے گئے تو عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ روس نے بھی مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی کو اپنی فوجی ترجیحات میں شامل کرلیا ہے، جبکہ بعض مغربی رپورٹس کے مطابق روس ممکنہ طور پر مکمل خودکار جنگی نظام کو عملی میدان میں استعمال بھی کرچکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل کی جنگیں روایتی ہتھیاروں کے بجائے مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں اور ڈرون ٹیکنالوجی کے گرد گھوم سکتی ہیں، اور یوکرین اس دوڑ میں خود کو سب سے آگے رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔


