اہم ترین

ایران امریکا معاہدہ: 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط ہوں گے

تین ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی اور فوجی محاذ آرائی کے بعد امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے پر متفق ہو گئے ہیں، جسے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، تاہم پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اس تاریخی سمجھوتے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر جہاز رانی کے لیے کھولنے اور ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی ترسیل دوبارہ معمول پر آنے کا وقت آ گیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور نتیجہ خیز مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی نافذ کی جائے گی۔

وزیراعظم نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے تنازع کے حل اور مذاکرات کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ادھر ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قطر کے نمائندوں کی موجودگی میں تہران میں ہونے والی طویل بات چیت کے بعد پیش رفت ممکن ہوئی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے پر باضابطہ دستخط سے قبل اس پر عملی درآمد شروع نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے اس پیش رفت کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے نشریات کے دوران ایک بینر بھی نشر کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ کو جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر آمادہ ہونا پڑا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تھی اور متعدد تجارتی و تیل بردار جہاز مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئے تھے، جس سے عالمی منڈیوں میں بے یقینی اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق مجوزہ معاہدے پر عملدرآمد کی صورت میں بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی سپلائی چین کو نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان