اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرلانتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کے پرامن حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور آئندہ مذاکرات کے لیے ایک مؤثر فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
بیان کے مطابق سیکریٹری جنرل نے امن معاہدے تک پہنچنے میں معاون سفارتی کوششوں پر پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ممالک کی کاوشوں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انتونیو گوتریس نے امید ظاہر کی کہ فریقین موجودہ پیش رفت کو مزید مضبوط بناتے ہوئے تنازع کے مستقل اور جامع حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں اس پیش رفت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد معاہدے نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی کو کم کرنے کی امید پیدا کر دی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی تجارت کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث اس علاقے میں جہاز رانی متاثر ہونے سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تھا۔ اب امن معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی برادری خطے میں استحکام اور اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے پُرامید دکھائی دے رہی ہے۔











