اہم ترین

فرانس میں شدید گرمی: ٹرینیں منسوخ اور اسکول بند کرنے پر غور

فرانس میں سال 2026 کی دوسری شدید گرمی کی لہر نے ملک کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں آنے والے دنوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث متعدد ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ مختلف شہروں میں اسکول بند کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی یہ لہر آئندہ ہفتے تک برقرار رہ سکتی ہے اور اس کی شدت اتوار یا پیر کو عروج پر پہنچنے کا امکان ہے۔ پیرس سمیت ملک کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کو ’’اورنج الرٹ‘‘ پر رکھا گیا ہے، جو خطرے کی دوسری بلند ترین سطح سمجھی جاتی ہے۔

حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے اور شدید دھوپ سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ رواں سال فرانس میں گرمی کی دوسری بڑی لہر ہے۔ اس سے قبل مئی میں بھی غیر معمولی درجہ حرارت نے ملک کے کئی علاقوں میں ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ ماہرین کے مطابق اتوار کو ہونے والا موسمِ گرما کا آغاز اور دن کے طویل اوقات سورج کی تپش میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے۔

شدید گرمی کے پیش نظر ملک بھر کے میئرز کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مقامی صورتحال کے مطابق تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔ کئی اسکولوں نے جمعرات کی دوپہر سے کلاسوں کے اوقات میں تبدیلی یا جزوی تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔

دارالحکومت پیرس میں کم از کم دس مڈل اسکولوں نے جمعرات اور جمعہ کے لیے خصوصی انتظامات متعارف کرائے ہیں، جبکہ وادی لوئر کے شہر ٹورز کے میئر ایمانوئل ڈینس نے خبردار کیا ہے کہ اگر درجہ حرارت 40 ڈگری تک پہنچ گیا تو شہر کے تمام 58 تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں گے۔

گزشتہ سال جون میں آنے والی شدید گرمی کے دوران فرانس بھر میں تقریباً 2200 اسکول بند کر دیے گئے تھے۔

دوسری جانب قومی ریلوے کمپنی ایس این سی ایف نے ایئرکنڈیشننگ نظام پر ممکنہ دباؤ اور خرابیوں کے خدشے کے باعث جمعرات سے پیر تک 71 طویل فاصلے کی ٹرینیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے پیرس انتظامیہ نے شہریوں کو کچھ ریلیف فراہم کرتے ہوئے مشرقی پیرس میں واقع کینال سینٹ مارٹن میں لائف گارڈز کی نگرانی میں تیراکی کی اجازت دے دی ہے۔ نائب میئر ایمانوئل گریگوار نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ گرمی سے بچاؤ کے ساتھ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔

ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یورپ میں گرمی کی لہریں تیزی سے زیادہ بار، زیادہ وسیع پیمانے پر اور زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہو رہی ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا واضح ثبوت ہیں۔

فرانسیسی محکمہ موسمیات کے ماہرِ آب و ہوا ماتھیو سورل کے مطابق فرانس میں گرمی کی لہریں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بار، زیادہ وسیع اور زیادہ شدید ہو رہی ہیں، اور یہ موسمیاتی تبدیلی کی ایک واضح علامت ہے۔

پاکستان