یورپی یونین کے موسمیاتی نگرانی کے ادارے کوپرنیکس میرین سروس نے انکشاف کیا ہے کہ جون 2026 دنیا بھر کے سمندروں کے لیے اب تک کا گرم ترین جون ثابت ہوا، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والے مہینوں میں مزید ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جون کے دوران عالمی سطح پر سمندر کی سطح کا اوسط درجۂ حرارت 21 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو 2023 اور 2024 میں قائم ہونے والے جون کے تمام سابقہ ریکارڈز سے زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق 2026 کے ابتدائی چھ ماہ مسلسل غیر معمولی حد تک گرم سمندری پانی اور وسیع پیمانے پر میرین ہیٹ ویوز (سمندری گرمی کی لہروں) سے متاثر رہے۔ اندازوں کے مطابق اس عرصے میں دنیا کے تقریباً 82 فیصد سمندری علاقے شدید حرارتی دباؤ کا شکار رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بحیرۂ روم، شمالی بحرِ اوقیانوس کا وسطی حصہ اور خطِ استوا کے قریب بحرالکاہل سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں پانی کا درجۂ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طاقتور ایل نینو کے آغاز کے آثار بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جو آنے والے مہینوں میں سمندروں اور فضا دونوں کے درجۂ حرارت میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ ایل نینو بحرالکاہل کے پانیوں کو غیر معمولی حد تک گرم کر دیتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کے موسم پر مرتب ہوتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق اس کے نتیجے میں مختلف خطوں میں شدید بارشیں، تباہ کن سیلاب، خشک سالی، جنگلات میں آگ اور طاقتور سمندری طوفانوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سائنسی جائزہ رپورٹ نے خبردار کیا تھا کہ دنیا کے سمندر “گہرے بحران” کا شکار ہیں، کیونکہ ان کا درجۂ حرارت اور سطح دونوں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سمندر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا تقریباً 90 فیصد جذب کرتے ہیں، لیکن مسلسل گرم ہوتے سمندر نہ صرف سمندری حیات، خصوصاً مرجان کی چٹانوں، کے لیے خطرہ بن رہے ہیں بلکہ سمندر کی سطح بلند ہونے اور شدید موسمی آفات کے امکانات بھی بڑھا رہے ہیں۔











