اہم ترین

فنڈز کی کمی سے لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی خطرے میں: اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ فلسطینی مہاجرین کے لیے کام کرنے والے ادارے اُنروا کو درپیش تقریباً 100 ملین ڈالر کے مالی خسارے کو فوری طور پر پورا کیا جائے، بصورت دیگر لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی اور بنیادی سہولیات شدید خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

نیویارک میں اُنروا کے لیے منعقدہ ڈونرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے، مشرقی یروشلم، لبنان، اردن اور شام میں فلسطینی مہاجرین کی فلاح و بہبود اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانی حالات انتہائی تشویشناک ہیں، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد اور لبنان میں حملوں نے فلسطینی مہاجرین کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

گوتریس کے مطابق فنڈز کی شدید کمی اور اسرائیل کی جانب سے اُنروا کی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کے باعث ادارے کے لیے اپنی خدمات جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری مالی امداد فراہم نہ کی گئی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

اُنروا 1949 میں فلسطینی مہاجرین کو تعلیم، صحت، خوراک، پناہ گاہ اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، اس وقت تقریباً 26 لاکھ فلسطینی مہاجرین کی مدد کر رہا ہے۔

امریکا ماضی میں اُنروا کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ تھا لیکن 2024 میں اسرائیلی الزامات کے بعد اس نے اپنی مالی معاونت روک دی تھی۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی تحقیقات میں 19 ملازمین کے خلاف لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے صرف نو افراد کے بارے میں ممکنہ ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا، جبکہ باقی افراد کے خلاف شواہد ناکافی یا موجود نہیں تھے۔

گوتریس نے کہا کہ اُنروا نے اصلاحات اور شفافیت بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، اس کے باوجود ادارے کو غلط معلومات، منفی مہمات، سفارتی رکاوٹوں اور عملی پابندیوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اکتوبر 2023 سے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران اُنروا کے 390 اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ترکیہ کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب احمد یلدز نے بھی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُنروا کو غیر معمولی سیاسی دباؤ اور رکاوٹوں کا سامنا ہے، جبکہ غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس کے عملے اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان