اہم ترین

ایران امریکا کشیدگی کے اثرات، امریکیوں پر پیٹرول بم گر گیا

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات امریکی عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان حملوں میں شدت آنے کے بعد امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت ایک بار پھر 4 ڈالر فی گیلن کی سطح سے تجاوز کر گئی ہے۔

امریکی موٹر کلب اے اے اے (ٹرپل اے) کے مطابق حالیہ اضافے نے ان امریکی خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جو پہلے ہی کئی برسوں سے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی شرح کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مارچ میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران کے ردعمل اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی تیل کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا تھا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئی تھیں اور امریکا میں پیٹرول بھی مہنگا ہو گیا تھا۔

اس سے قبل امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد 4 ڈالر فی گیلن سے اوپر گئی تھیں۔ ایک سال قبل امریکا میں عام پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 3.14 ڈالر فی گیلن تھی۔

حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک عارضی سمجھوتے کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی، تاہم جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد قیمتیں پھر بڑھنے لگیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ صورتحال سیاسی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور ایندھن کی قیمتیں ووٹرز کے بڑے خدشات میں شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ “مکمل جنگ” کی صورتحال میں ہے، جبکہ امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں میں حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ایران کی جانب سے بھی خطے میں جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔

تاہم کشیدگی کے باوجود سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ثالث ممالک کے ذریعے امریکا کے ساتھ سفارتی رابطے جاری ہیں، جبکہ ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی مذاکراتی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا دورہ کرنے والے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران امریکا تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا میں توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

پاکستان