اہم ترین

دنیا میں 64 کروڑ 50 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بھوک کا شکار افراد کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم یہ شرح کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے اب بھی زیادہ ہے۔

الجزیرہ میں اقوام متحدہ کی شائع رپورٹ کے مطابق 2025 میں تقریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار رہے، جو 2024 کے مقابلے میں ایک کروڑ 40 لاکھ کم اور 2022 کے مقابلے میں 4 کروڑ 30 لاکھ کم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا کی 7.8 فیصد آبادی کو بھوک کا سامنا رہا، جبکہ 2024 میں یہ شرح 8.1 فیصد اور 2022 میں 8.6 فیصد تھی۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بہتری کے باوجود جنگوں، معاشی بحرانوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث لاکھوں افراد شدید غذائی مشکلات کا شکار ہیں۔

افریقا اب بھی دنیا کا سب سے بڑا بھوک زدہ خطہ ہے، جہاں 2025 میں تقریباً 30 کروڑ 90 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار رہے، جو براعظم کی ہر پانچویں شخصیت کے برابر ہے۔ ایشیا میں تقریباً 29 کروڑ 20 لاکھ افراد جبکہ لاطینی امریکا اور کیریبین میں 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ صحت مند غذا خریدنے سے محروم افراد کی تعداد 2021 میں 2 ارب 97 کروڑ سے کم ہو کر 2025 میں 2 ارب 69 کروڑ رہ گئی، تاہم غذائیت سے بھرپور خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ایک بڑا چیلنج ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2030 تک بھوک کے شکار افراد کی تعداد میں مزید کمی کا امکان ہے، لیکن اس دہائی کے اختتام تک بھی 51 سے 52 کروڑ افراد غذائی قلت کا شکار رہ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں شدید ترین بھوک کے بحران سے دوچار علاقوں میں غزہ سرفہرست قرار دیا گیا، جہاں تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار افراد تباہ کن غذائی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ سوڈان میں بھی بڑی تعداد میں لوگ شدید بھوک کا شکار ہیں۔

پاکستان