اہم ترین

سعودی عرب کو دھمکیوں کے جواب میں پاکستان کی حوثیوں کو کارروائی کی وارننگ

یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے بعد پاکستان نے حوثیوں کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی بحری جہازوں یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کا اقدام ناقابلِ قبول ہوگا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی کو قومی سلامتی اور ملکی مفادات کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جائے گا۔

وزارت خارجہ نے سعودی عرب کے خلاف حوثی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں گھسیٹنے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اسلام آباد نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی اور سکیورٹی تعاون موجود ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کے باعث خطے میں کسی بھی بڑی کشیدگی کی صورت میں پاکستان کے کردار پر نظریں مرکوز رہیں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور پاکستان ریاض کی حمایت میں عملی اقدامات کرتا ہے تو اس کے علاقائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایران کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں، کیونکہ حوثی گروپ کو تہران کی حمایت حاصل ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

بحیرہ احمر، خلیج عدن اور آبنائے باب المندب کے راستوں میں بڑھتی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بحری مفادات کے تحفظ اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے محتاط مگر واضح پالیسی پر قائم ہے۔

پاکستان