اہم ترین

اے آئی سائنسی انقلاب کے ساتھ مجرمانہ عناصر کے لیے بھی سہولت کار: کیمبرج رہورٹ

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی دنیا میں ہونے والی بے مثال پیش رفت جہاں صحت، تعلیم اور سائنس جیسے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے، وہیں یہ ٹیکنالوجی عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہی ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، ‘فرنٹیئر’ ماڈلز کی زبردست طاقت اگر بغیر سخت حفاظتی تدابیر کے عام ہوتی رہی، تو یہ مجرموں، دہشت گرد گروہوں اور مخالف ریاستوں کے ہاتھ ایک انتہائی مہلک ہتھیار تھما سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی، ڈیپ مائنڈ، اینتھروپک۔ میٹا اور ایکس اے آئی جیسی پیش پیش کمپنیوں کے تیار کردہ موجودہ ‘فرنٹیئر’ ماڈلز پرانے ٹیکسٹ بوٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ خود مختار ہیں۔ یہ جدید نظام کمپیوٹر کوڈ لکھنے اور اس کی اصلاح کرنے، پیچیدہ ڈیٹا کے تجزیے، ویب براؤزنگ اور انسانوں کی کم سے کم مداخلت کے ساتھ طویل اور پیچیدہ منصوبے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تحقیق میں اے آئی کو ایک کلاسک ‘ڈوئل یوز’ (دو دھاری تلوار ) ٹیکنالوجی قرار دیا گیا ہے۔ جہاں یہ ادویات کی تحقیق اور پیداوار میں معاون ثابت ہو رہی ہے، وہاں یہ بدنیتی پر مبنی مقاصد کے لیے بھی اتنی ہی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ اے آئی کی سائبر صلاحیتیں تقریباً ہر 8 ماہ میں دگنی ہو رہی ہیں، جو کہ ماہرین کی توقعات سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہے۔

رپورٹ میں اے آئی کے متوقع غلط استعمال کے بنیادی خطرات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

سائبر جرائم میں آسانی: قدرتی زبان میں فشنگ ای میلز، نقصان دہ کوڈز کا خود کار انراج، اور نظام کی کمزوریوں کو تیزی سے تلاش کرنا اب بہت آسان اور سستا ہو چکا ہے۔

جعلی معلومات کاسیلاب: اے آئی سے تیار کردہ بے حد حقیقت پسندانہ تصاوِیر، ویڈیوز اور آوازیں (ڈپ فیکس) انتخابات میں مداخلت اور سیاسی افراتفری پھیلانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

حیاتیاتی و کیمیائی خطرات: اگرچہ موجودہ ماڈلز پر پابندیاں عائد ہیں، لیکن مستقبل میں یہ خطرناک کیمیائی اور حیاتیاتی تحقیق کے غلط استعمال میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

جدید جنگجوئی: خود مختار ڈرونز اور اے آئی سے لیس ہتھیاروں کی غیر ریاستی عناصر تک رسائی کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

عالمی خفیہ ایجنسیوں کا ردِعمل

اس صورتحال نے دنیا کے معروف انٹیلی جنس اتحاد ‘فائیو آئیز’ (امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ) کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ اتحاد کا ماننا ہے کہ انتہائی پیچیدہ سائبر حملوں کی صلاحیت رکھنے والے اے آئی ماڈلز بہت جلد سامنے آ سکتے ہیں، جس کے لیے سائبر سیکیورٹی کو محض تکنیکی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک ہنگامی قیادت کا چیلنج ماننا ہو گا۔

حکومتوں، اے آئی ڈویلپرز اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان شفافیت اور باہمی تعاون کو بڑھایا جائے۔کیمبرج کے ماہرین اے آئی کی پیش رفت کو روکنے کے بجائے ایک متوازن اور مضبوط فریم ورک تجویز کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومتوں، اے آئی ڈویلپرز اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان شفافیت اور باہمی تعاون کو بڑھایا جائے۔

نئے ماڈلز کی عام مارکیٹ میں آمد سے قبل سخت حفاظتی ٹیسٹنگ کو لازمی بنایا جائے۔

بین الاقوامی سطح پر اے آئی گورننس کے یکساں اصول وضع کیے جائیں۔

انٹرنیشنل اے آئی سیفٹی رپورٹ 2026 کے نتائج کی بھی توثیق کرتے ہوئے کیمبرج کے محققین نے انتباہ دیا ہے کہ دنیا کے پاس ان خطرات سے نمٹنے اور پیشگی تیاری کے لیے وقت بہت کم ہے، اور بحران پیدا ہونے سے پہلے ہی اقدامات کرنا ہوں گے۔

پاکستان