اہم ترین

کافی پیئیں اور عمر رسیدگی کے اثرات کم کریں : جدید تحقیق

عمر بڑھنا ایک قدرتی عمل ہے، تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ طرزِ زندگی اور خوراک کے ذریعے عمر کے اثرات کو کسی حد تک سست کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی سے پرہیز، ورزش، متوازن غذا اور صحت مند عادات انسان کو زیادہ فعال اور بہتر عمر گزارنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کافی میں موجود قدرتی اجزا جسم میں ایسے حفاظتی نظام کو متحرک کر سکتے ہیں جو سوزش، خلیوں کو پہنچنے والے نقصان اور عمر سے متعلق بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق کافی میں پائے جانے والے پولی فینولز نامی قدرتی مرکبات جسم کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ پولی فینولز ایسے غذائی اجزا ہیں جو جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس اور سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ مرکبات صرف کافی میں نہیں بلکہ مختلف اقسام کی بیریوں ، انار، پالک، اخروٹ، سبز اور کالی چائے ، ڈارک چاکلیٹ اور ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل جیسی غذاؤں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

تحقیق کاروں نے مختلف خلیاتی ماڈلز کے ذریعے جائزہ لیا کہ کافی کے اجزا جسم کے ایک مخصوص پروٹین این آر 4 اے 1 پر کیا اثر ڈالتے ہیں۔

یہ پروٹین جسم میں دباؤ، سوزش اور خلیوں کو نقصان سے بچانے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق کافی میں موجود بعض مرکبات، خاص طور پر کیفیک ایسڈ پروٹین این آر 4 اے 1 کو فعال کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے جسم کے حفاظتی نظام کو تقویت مل سکتی ہے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ نتائج کافی کو عمر روکنے والی دوا ثابت نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ تحقیق زیادہ تر لیبارٹری میں خلیاتی تجربات پر مبنی تھی، اس لیے ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ صرف کافی پینے سے انسان کی عمر بڑھنے کا عمل سست ہو جائے گا یا الزائمر، دل کی بیماریوں اور دیگر امراض سے مکمل تحفظ ملے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ تحقیق صرف اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کافی سے وابستہ بعض صحت بخش اثرات کے پیچھے کون سے حیاتیاتی عوامل کام کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر عمر کے لیے کسی ایک غذا پر انحصار کرنے کے بجائے سبزیوں اور پودوں پر مبنی متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر کو قابو میں رکھنے جیسے مجموعی طرز زندگی زیادہ اہم ہے۔

ماہرین کے مطابق مقصد صرف زندگی کے سال بڑھانا نہیں بلکہ ایسے سال بڑھانا ہونا چاہیے جن میں انسان جسمانی اور ذہنی طور پر فعال رہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق این آر 4 اے 1 پروٹین کو فعال کرنے کے لیے ابھی کوئی ثابت شدہ غذا یا سپلیمنٹ موجود نہیں۔ تاہم پھلوں، سبزیوں اور دیگر قدرتی غذاؤں میں موجود مرکبات جیسے ریسویراٹرول، کوئرسیٹن اور کیمفرول پر بھی تحقیق جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال سب سے مضبوط سائنسی ثبوت ایک مجموعی صحت مند زندگی کے حق میں ہے، نہ کہ کسی ایک خوراک یا سپلیمنٹ کے استعمال کے حق میں۔

پاکستان