بالی ووڈ اداکارہ یامی گوتم نے انکشاف کیا ہے کہ فلم اُڑی: دی سرجیکل اسٹرائیک کی کامیابی سے قبل وہ فلم انڈسٹری چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی تھیں اور ہماچل پردیش واپس جا کر ایک پُرسکون زندگی گزارنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں یامی گوتم نے بتایا کہ 2012 میں فلم وکی ڈونر سے کامیاب آغاز کے باوجود ان کا فلمی سفر توقعات کے مطابق آسان نہیں تھا۔ بہتر مواقع نہ ملنے اور مسلسل سمجھوتہ کرنے کے دباؤ نے انہیں مایوس کر دیا تھا، جس کے باعث وہ اداکاری کو خیرباد کہنے کے لیے تیار تھیں۔
اداکارہ کے مطابق انہوں نے ہماچل پردیش میں اپنے آبائی علاقے واپس جا کر خاندانی زرعی زمین پر نئی زندگی شروع کرنے کا منصوبہ بھی بنا لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مشکل وقت میں ان کے والدین نے مکمل حمایت کی اور کہا کہ اگر وہ واپس آنا چاہیں تو گھر کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔
یامی گوتم نے کہا کہ ان کی زندگی اس وقت بدل گئی جب انہوں نے خوف کی بنیاد پر فیصلے کرنا چھوڑ دیے۔ ان کے بقول، جیسے ہی انہوں نے صرف اس ڈر سے ہر کردار قبول کرنا بند کیا کہ کہیں لوگ انہیں بھول نہ جائیں، اسی دوران انہیں اُڑی: دی سرجیکل اسٹرائیک اور بالا جیسی فلمیں ملیں، جنہوں نے ان کے کیریئر کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس تجربے نے انہیں سکھایا کہ خوف انسان کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے، اور جب میں نے خوف سے آزاد ہو کر فیصلے کیے تو میری زندگی تقریباً ایک رات میں بدل گئی۔











