اہم ترین

ایلون مسک کا بڑا امتحان: اسپیس ایکس کے پہلے سہ ماہی نتائج

ریکارڈ ساز ابتدائی عوامی پیشکش کے تقریباً دو ماہ بعد ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اپنے پہلے سہ ماہی مالی نتائج جاری کررہی ہے، جبکہ جون میں عروج پر پہنچنے کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمت تقریباً نصف رہ چکی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق تقریباً 0015 ارب ڈالر مالیت رکھنے والی کمپنی اسپیس ایکس پر سرمایہ کاروں کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ آیا وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، خلائی ڈیٹا سینٹرز اور مریخ پر انسانی آبادکاری جیسے اپنے بڑے منصوبوں کو مستقبل میں منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر سکتی ہے یا نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جون میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں اسپیس ایکس کو اوسطاً 6.8 ارب ڈالر آمدنی کے مقابلے میں 1.9 ارب ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم یہ نقصان گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد کم ہوگا۔ کمپنی ستمبر کے اختتام تک خسارے سے نکل کر بریک ایون کی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔

کمپنی کی مالی کارکردگی میں بہتری کی ایک بڑی وجہ اے آئی کمپنی انتھروپک کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ہے، جس کے تحت وہ اسپیس ایکس کے ڈیٹا سینٹر کے استعمال کے لیے ماہانہ 1.25 ارب ڈالر ادا کر رہی ہے۔ اسی طرح گوگل اور ریفلیکشن اے آئی بھی کمپنی کی کمپیوٹنگ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے معاہدے کر چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اب راکٹ لانچز کمپنی کی مجموعی آمدنی کا صرف پانچواں حصہ ہیں، جبکہ اسٹارلنک نصف سے زیادہ آمدنی فراہم کرنے والا اور واحد منافع بخش شعبہ ہے۔ دوسری جانب اے آئی کاروبار تیزی سے کمپنی کی سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔

سرمایہ کار صرف مالی نتائج ہی نہیں بلکہ ایلون مسک کے آئندہ منصوبوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مارکیٹ میں یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ آیا کمپنی اے آئی اسٹارٹ اپ کرسر کے ممکنہ 60 ارب ڈالر کے حصول یا پھر ٹیسلا کے ساتھ ممکنہ انضمام کے حوالے سے کوئی اہم اعلان کرے گی۔

پاکستان