امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جدید مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ماڈلز کی ریلیز سے قبل سکیورٹی جانچ کے لیے نیا طریقہ کار وضع کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس ہوا، جس میں جدید اے آئی سسٹمز کے ممکنہ خطرات، سائبر سکیورٹی اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر غور کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ سکیورٹی ریویو صرف بند اے آئی ماڈلز پر لاگو ہوگا، جنہیں کمپنیاں خود تیار اور کنٹرول کرتی ہیں۔ اس فہرست میں اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل جیسے ادارے شامل ہیں۔
اس کے برعکس اوپن سورس ماڈلز، جنہیں صارفین ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں، اس عمل سے مستثنیٰ رکھے گئے ہیں۔ ان میں میٹا اور این ویڈیا سمیت دیگر کمپنیوں کے تیار کردہ ماڈلز شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس اجلاس میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، گوگل، مائیکروسافٹ، میٹا اور این ویڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مقصد اے آئی کے خطرات کو کم کرنا ہے، تاہم ایسی پالیسی نہیں بنائی جائے گی جو امریکا کو چین کے مقابلے میں پیچھے کر دے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں سکیورٹی خدشات بڑھا دیے ہیں، خاص طور پر ایسے اے آئی سسٹمز کے حوالے سے جو خودکار طور پر پیچیدہ کام انجام دے سکتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے آزمائشی ماڈلز سے متعلق سائبر سکیورٹی واقعات سامنے آنے کے بعد خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اے آئی کے شعبے میں جدت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی اپنائی جائے گی تاکہ امریکا ٹیکنالوجی کے عالمی مقابلے میں اپنی برتری قائم رکھ سکے۔











