فیٹی لیور کے مریضوں کے لیے ٹماٹر غذا کا ایک مفید حصہ ثابت ہوسکتا ہے۔ نئی تحقیق میں روزانہ ٹماٹر اور ٹماٹر کی چٹنی استعمال کرنے والے افراد کے جگر میں چربی کی مقدار میں نسبتاً زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔
میٹابولک ڈس فنکشن ایسوسی ایٹڈ لیور ڈیزیز، جسے عام طور پر ایم اے ایس ایل ڈی کہا جاتا ہے، میں جگر میں چربی جمع ہوجاتی ہے اور اس کے ساتھ موٹاپا، بلند فشارِ خون یا دیگر میٹابولک مسائل بھی موجود ہوسکتے ہیں۔
تحقیق میں ایم اے ایس ایل ڈی سے متاثرہ 79 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ شرکا کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے ایک گروپ نے ٹماٹر سے پاک معمول کی خوراک استعمال کی، جبکہ دوسرے گروپ کو روزانہ 200 گرام تازہ ٹماٹر اور 50 گرام ٹماٹر کی چٹنی دی گئی۔
یہ غذائی تجربہ چھ ہفتوں تک جاری رہا۔ اس دوران محققین نے شرکا میں جگر کی چربی، جگر کی سختی، جسمانی ساخت اور کولیسٹرول سمیت مختلف طبی اشاریوں کا جائزہ لیا۔
نتائج میں دونوں گروپس کے جگر میں چربی کی مقدار میں کمی دیکھی گئی، تاہم ٹماٹر استعمال کرنے والے گروپ میں کمی نسبتاً زیادہ تھی۔ محققین کے مطابق یہ اثر جسمانی وزن یا پیٹ کی چربی میں نمایاں تبدیلی کے بغیر بھی دیکھا گیا۔
تاہم تحقیق میں جگر کی سختی، جگر کے انزائمز، کولیسٹرول، باڈی ماس انڈیکس اور دیگر اہم طبی اشاریوں میں دونوں گروپس کے درمیان نمایاں فرق نہیں ملا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نتائج حوصلہ افزا ضرور ہیں، لیکن انہیں فیٹی لیور کے علاج کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تحقیق صرف چھ ہفتوں تک جاری رہی، شرکا کی تعداد محدود تھی اور بیشتر افراد مرد تھے۔ اس کے علاوہ ٹماٹر اور ٹماٹر کی چٹنی دونوں استعمال کرائے جانے کے باعث یہ واضح نہیں ہوسکا کہ فائدہ کس جزو یا دونوں کے امتزاج سے ہوا۔
محققین نے بھی زور دیا ہے کہ بڑے پیمانے پر اور طویل مدتی مطالعات کے ذریعے ان نتائج کی مزید تصدیق ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹماٹر متوازن اور صحت بخش غذا کا حصہ ضرور بن سکتے ہیں، تاہم فیٹی لیور سے نمٹنے کے لیے صرف کسی ایک غذا پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ خاص طور پر ایسے افراد جنہیں موٹاپا، ذیابیطس یا دیگر میٹابولک مسائل لاحق ہوں، انہیں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مجموعی طرزِ زندگی اور غذا میں بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔











