اہم ترین

اے آئی پر عوام کا اعتماد بحران کا شکار ہے: سربراہ اینتھروپک

اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مستقبل اور اس کے خطرات کی تصویر ضرورت سے زیادہ منفی انداز میں پیش کر رہے ہیں۔

ڈاریو اموڈی کا یہ ردعمل سرمایہ کار گیون بیکر کے ان تبصروں کے بعد سامنے آیا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات سے متعلق اموڈی کی تنبیہات نے امریکا میں اے آئی کے خلاف ردعمل، خصوصاً ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت، کو تقویت دی ہے۔

بیکر نے کہا تھا کہ اے آئی ریگولیشن کے معاملے پر اموڈی اپنی دلیل ہار چکے ہیں اور چونکہ وہ دنیا کی اہم ترین کمپنیوں میں سے ایک کے سربراہ ہیں، اس لیے انہیں اپنی صنعت کے لیے زیادہ مثبت انداز میں آواز اٹھانی چاہیے۔

اموڈی نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریروں میں اے آئی کے خطرات اور فوائد تقریباً برابر زیر بحث آئے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی تحریر “مشینز آف لوننگ گریس” اس لیے لکھی تھی کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ اے آئی انڈسٹری اس ٹیundamentally a crisis of trustکنالوجی کے ذریعے دنیا میں ممکنہ مثبت تبدیلی کی کوئی زیادہ متاثر کن تصویر پیش نہیں کر رہی۔

تاہم اموڈی نے تسلیم کیا کہ عوام میں اے آئی کے بارے میں منفی تاثر موجود ہے اور یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اس منفی تاثر کی بنیادی وجہ اے آئی رہنماؤں کی جانب سے خطرات کی نشاندہی نہیں بلکہ اعتماد کا بحران ہے۔

اموڈی کا کہنا تھا کہ عام لوگ کمپنیوں، حکومتوں اور ٹیکنالوجی کی صنعت پر اعتماد نہیں کرتے اور انہیں خدشہ رہتا ہے کہ یہ ادارے ان کے لیے کوئی نیا مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے خلاف موجود ردعمل کئی دہائیوں سے جاری اعتماد کے بحران کی تازہ شکل ہے۔

اینتھروپک کے سربراہ نے اے آئی کمپنیوں پر ہونے والی تنقید میں ایک نکتے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈسٹری نے دنیا کو فائدہ پہنچانے کے جو بڑے وعدے کیے تھے، وہ ابھی تک پورے نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی کے ذریعے کینسر کے علاج جیسے وعدے کرنا متاثر کن بات سے زیادہ ایک کلیشے بن چکا ہے، جبکہ عوام کی رائے اس وقت بدلے گی جب اے آئی حقیقتاً ایسے مسائل حل کرے گی۔

ریگولیشن کے معاملے پر اموڈی نے گیون بیکر کے مؤقف کو “غلط انتخاب” قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ اے آئی کو بغیر کسی ضابطے کے وسیع پیمانے پر پھیلانے اور چند بڑی کمپنیوں کے ہاتھ میں ٹیکنالوجی کے ارتکاز کے درمیان ہی انتخاب کیا جائے۔

اموڈی نے کہا کہ سلیکان ویلی میں ریگولیشن کو اکثر ریگولیٹری قبضے اور طاقت کے ارتکاز کے مترادف سمجھا جاتا ہے، تاہم ان کے بقول یہ دنیا کی ایک حد سے زیادہ سادہ تصویر ہے۔ بہت سے لوگ ریگولیشن کو کارپوریٹ طاقت محدود کرنے اور عام لوگوں کے مفاد کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اینتھروپک اپنی پالیسی تجاویز اس لیے احتیاط سے تیار کرتی ہے تاکہ ایسی پالیسیاں وضع کی جائیں جو بڑی اور جدید ترین اے آئی کمپنیوں کی رفتار کو محدود کریں، جبکہ چھوٹے حریفوں کے لیے نسبتاً بہتر مواقع پیدا کریں۔

اموڈی کے مطابق اے آئی بنیادی طور پر ایسی ٹیکنالوجی ہے جو طاقت کو چند ہاتھوں میں مرکوز کرنے کا رجحان رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپن ویٹس ماڈلز اس مسئلے کو کسی حد تک کم کر سکتے ہیں، لیکن یہ مکمل حل نہیں کیونکہ طاقت کا ارتکاز بالآخر زیادہ کمپیوٹنگ وسائل اور جدید چپس رکھنے والوں کی جانب منتقل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ درست “قواعدِ کار” ایسے ہونے چاہئیں جو اے آئی سے متعلق سائبر، بائیو اور الائنمنٹ خطرات سے نمٹنے کے ساتھ بڑی اے آئی کمپنیوں کی طاقت کو ادارہ جاتی طور پر محدود کریں، جبکہ اوپن ویٹس ماڈلز کے لیے بھی گنجائش برقرار رکھیں اور ان سے وابستہ مخصوص خطرات کو بھی حل کریں۔

پاکستان