ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے یہ معاہدہ 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں کیا تھا، جس کے تحت تینوں ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق معاہدے میں کوئی جارحانہ یا حملہ آور عنصر شامل نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ تینوں ممالک کے طویل عرصے سے موجود اسٹریٹجک تعلقات کو باضابطہ شکل دیتا ہے اور اس کی بنیاد اجتماعی دفاع پر ہے۔
تاہم کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں پاکستان کے ممکنہ عملی ردعمل کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی وعدوں کو عملی شکل دینے کا طریقہ کار آپریشنل اور سکیورٹی معاملات کا حصہ ہوتا ہے، جسے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔
معاہدے میں مستقبل میں دیگر ممالک کی شمولیت کا امکان بھی موجود ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ایسے ممالک جو علاقائی امن، استحکام اور سلامتی کے مشترکہ وژن پر یقین رکھتے ہوں، مستقبل میں شراکت دار بن سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے فیصلہ تینوں ممالک کی سیاسی اور عسکری قیادت کرے گی۔
پاکستان کی وزارت خارجہ اس سے قبل واضح کرچکی ہے کہ فی الحال معاہدے میں توسیع زیرِ غور نہیں، کیونکہ پہلے موجودہ تین ملکی تعاون کو مستحکم کیا جائے گا۔
تینوں ممالک نے معاہدے کے تحت تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے سعودی عرب میں ایک سیکریٹریٹ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کی ابتدائی سربراہی تین سال کے لیے پاکستانی سیکریٹری جنرل کریں گے۔ دفاعی صنعت، مشترکہ ٹیکنالوجی اور پیداوار میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مکہ معاہدہ کسی وسیع اسلامی فوجی بلاک کی تشکیل کی بنیاد ہے۔
ان کے مطابق معاہدہ صرف مسلم ممالک تک محدود کلب نہیں، بلکہ اس کا بنیادی مقصد اجتماعی دفاع، غیر جارحیت اور علاقائی سلامتی ہے۔
پاکستان کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات پر بھی وضاحت کی گئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مکہ معاہدہ پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات کو پیچیدہ نہیں کرتا اور اسلام آباد مختلف ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک دوسرے کے خلاف نہیں دیکھتا۔
پاکستان اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطوں کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق اسلام آباد علاقائی بحرانوں کے پرامن حل اور مذاکرات کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے


