چین کے روبوٹ ڈانسرز امریکاز گاٹ ٹیلنٹ کے فائنل میں پہنچ گئے

چین کے روبوٹ ڈانسرز نے اپنی منفرد رقص کی صلاحیتوں سے عالمی توجہ حاصل کرلی، جہاں چینی اسٹریٹ ڈانسر وو یوفی اور روبوٹس پر مشتمل ان کا گروپ ’’ہومیز‘‘ امریکا کے معروف ٹیلنٹ شو ’امریکاز گاٹ ٹیلنٹ‘ (اے جی ٹی) کے فائنل میں پہنچ گیا ہے۔

وو یوفی کا تعلق چین کے صوبے سیچوان سے ہے اور وہ گزشتہ 13 برس سے اسٹریٹ ڈانس سے وابستہ ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے انسانوں کے بجائے جدید ہیومنائیڈ روبوٹس کو اپنی ڈانس ٹیم کا حصہ بنایا ہے۔

وو یوفی کے مطابق روبوٹس کے ساتھ رقص کرنا ان کے لیے ایک جادوئی احساس ہے۔ کئی ماہ کی تربیت کے بعد انہیں یہ مشینیں محض بے جان آلات محسوس نہیں ہوتیں بلکہ ان کے بقول روبوٹ ڈانسرز کے ساتھ ایک طرح کی ٹیم اسپرٹ پیدا ہوگئی ہے۔

یہ ہیومنائیڈ روبوٹس چینی روبوٹکس کمپنی یونیٹر نے تیار کیے ہیں۔ چین میں روبوٹ ڈانس اس وقت خاصی مقبولیت حاصل کر رہا ہے، خصوصاً ملک کے سالانہ اسپرنگ فیسٹیول گالا میں یونٹری کے روبوٹس کی نمایاں پرفارمنس کے بعد مختلف کاروباری ادارے اور ایونٹ منتظمین بھی روبوٹس کو پرفارمنس کے لیے کرائے پر لینے لگے ہیں۔
روبوٹس کو ڈانس سکھانا آسان نہیں

روبوٹس کو رقص کی تربیت دینے کے لیے انسانی ڈانسرز کی حرکات کو ریکارڈ کیا جاتا ہے، کمپیوٹر سمیولیشنز کے ذریعے ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور پھر ان حرکات کو روبٹر فینگ ژینگ ہواڈ کی ڈانس روٹین کو مکمل کرنے میں کئی دن اور بعض اوقات ہفتے لگ سکتے ہیں۔ روبوٹس کی جسمانی صلاحیتوں کے مطابقبوٹس گھومنے اور بعض پاور مووز میں اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں، تاہم جسمانی لچک درکار رکھنے والی حرکات ان کے لیے اب بھی مشکل ہیں۔ موسیقی کے ساتھ فوری ردعمل اور موقع پر کوریوگرافی تبدیل کرنا بھی انسانی ڈانسرز کے مقابلے میں روبوٹس کی بڑی کمزوری ہے، کیونکہ ان کی پرفارمنس زیادہ تر پہلے سے پروگرام شدگن اسٹینلے نے اندازہ لگایا ہے کہ چین کی ہیومنائیڈ کی پہلی ششماہی میں دنیا بھر میں بھیجے گئے ہیومنائیڈ روبوٹس میںوٹس میں منتقل کیا جاتا ہے۔

پرفارمنس کے آرٹ ڈائریکٹر فینگ ژینگ ہوا کے مطابق روبوٹ کو ڈانس سکھانا کسی حد تک اس میں روح پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

ماہرین کے مطابق 30 سیکنڈ کی ڈانس روٹین کو مکمل کرنے میں کئی دن اور بعض اوقات ہفتے لگ سکتے ہیں۔ روبوٹس کی جسمانی صلاحیتوں کے مطابق کوریوگرافی میں تبدیلی بھی کرنا پڑتی ہے۔

روبوٹس گھومنے اور بعض پاور مووز میں اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں، تاہم جسمانی لچک درکار رکھنے والی حرکات ان کے لیے اب بھی مشکل ہیں۔ موسیقی کے ساتھ فوری ردعمل اور موقع پر کوریوگرافی تبدیل کرنا بھی انسانی ڈانسرز کے مقابلے میں روبوٹس کی بڑی کمزوری ہے، کیونکہ ان کی پرفارمنس زیادہ تر پہلے سے پروگرام شدہ ہوتی ہے۔

تفریح سے آگے روبوٹکس کی نمائش

چینی روبوٹکس صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق روبوٹ ڈانس صرف تفریح نہیں بلکہ ہیومنائیڈ روبوٹس کی ٹیکنالوجی، ڈیزائن، صلاحیت اور قابلِ اعتماد کارکردگی دکھانے کا ایک ذریعہ بھی بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مورگن اسٹینلے نے اندازہ لگایا ہے کہ چین کی ہیومنائیڈ روبوٹکس مارکیٹ رواں سال 2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں دنیا بھر میں بھیجے گئے ہیومنائیڈ روبوٹس میں چینی صنعت کا حصہ 97 فیصد سے زیادہ رہا۔

تاہم صنعت کو ابھی ایسے عملی اور تجارتی استعمال تلاش کرنے کا چیلنج درپیش ہے جو صرف تفریح تک محدود نہ ہوں۔ روبوٹکس کمپنیوں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر مفید روبوٹس کی صنعت کوست میں شنگھائی اسٹاک مارکیٹ میں شاندار آغاز کیا تھا، تاہم بعد ازاں اس کی مارکیٹ ویلیو بلند ترین سطح سے تقریباً نصف ابھی مزید وقت درکار ہے۔

یونیٹری نے اگست میں شنگھائی اسٹاک مارکیٹ میں شاندار آغاز کیا تھا، تاہم بعد ازاں اس کی مارکیٹ ویلیو بلند ترین سطح سے تقریباً نصف رہ گئی۔