سمندری سطح میں اضافے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ میں متفقہ قرارداد منظور

نیویارک: اقوام متحدہ نے سمندری سطح میں تیزی سے اضافے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے متفقہ قرارداد منظور کرلی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق قرارداد میں عالمی برادری سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور سمندری سطح میں اضافے سے متاثرہ ممالک کے لیے مالی و عملی مدد بڑھ خبردار کیا کہ سمندر کی سطح میں اضافہ محض ملی میٹرز کا معاملہ نہیں بلکہ اس ایک اہم پہلو ان چھوٹی جزیرہ ریاستوں کا قانونی مستقبل ہے جنہیں بڑھتی ہوئی سمندری سطح براہِ راست خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے قرار دیا کہ ساحلی پٹی پیچھے ہٹنے کے باوجود ریاستوں کے سمندری حدود برقرار رہیں گے، جبکہ کسی ریاست کے کسی جغرافیائی جزو کے ختم ہونے سے لازوں کے اتحاد کے نمائندے سورانگل وِپس جونیئر نے کہا کہ سمندرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2024 میں عالمی سمندری سطح تقریباً چھ ملی میٹر بڑھی، جو اب تک کسی ایک سال میں ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو رواں صدی کے اختتام تک سمندری سطح میں ایک میٹر یا اس سے زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ سمندر کی سطح میں اضافہ محض ملی میٹرز کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات لاکھوں انسانوں، آبادیوں اور ان کے مستقبل تک پہنچ سکتے ہیں۔

قرارداد کا ایک اہم پہلو ان چھوٹی جزیرہ ریاستوں کا قانونی مستقبل ہے جنہیں بڑھتی ہوئی سمندری سطح براہِ راست خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے قرار دیا کہ ساحلی پٹی پیچھے ہٹنے کے باوجود ریاستوں کے سمندری حدود برقرار رہیں گے، جبکہ کسی ریاست کے کسی جغرافیائی جزو کے ختم ہونے سے لازماً اس کی ریاستی حیثیت ختم نہیں ہوگی۔

پلاؤ کے صدر اور چھوٹی جزیرہ ریاستوں کے اتحاد کے نمائندے سورانگل وِپس جونیئر نے کہا کہ سمندر میں گھرے ممالک کے لیے سمندری سطح میں اضافہ زندگی بدل دینے والا خطرہ ہے۔

ماہرین کے مطابق خطرہ صرف بڑے اضافے سے نہیں بلکہوز اور دیگر قدرتی ساحلی نظاموں کے تحفظ کو بھی اہم قرار دیا ہے، جو ساحلی خطرات سطح پر ایک اہم سفارتی قدم ہے، تاہم اصل چیلنج اس کے بعد معمولی اضافے سے بھی بڑھتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سمندر کی سطح میں ایک سینٹی میٹر اضافہ ساحلی پٹی کو تقریباً ایک میٹر پیچھے دھکیل سکتا ہے۔ اگر سمندر کی سطح نصف میٹر بڑھ گئی تو موجودہ حالات میں ہر 50 سال میں ایک بار آنے والی شدید سیلابی صورتحال ہر تین یا چار سال میں پیش آسکتی ہے۔

ماہرین نے مینگرووز اور دیگر قدرتی ساحلی نظاموں کے تحفظ کو بھی اہم قرار دیا ہے، جو ساحلی خطرات کم کرنے کے ساتھ کاربن جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

قرارداد عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی قدم ہے، تاہم اصل چیلنج اس کے بعد شروع ہوتا ہے: اخراج میں حقیقی کمی، متاثرہ ممالک کے لیے مطلوبہ مالی مدد اور عملی اقدامات کس رفتار سے کیے جاتے ہیں، یہی طے کرے گا کہ اس فیصلے کا زمینی اثر کتنا ہوگا۔